انوارالعلوم (جلد 13) — Page 62
۶۲ انوار العلوم جلد ۱۳ ہمارے تمام کاموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے توکل پر ہونی چاہئے اول بھی ہے اور آخر بھی هُوَ الْاَوَّلُ وَالاخِرُ وَالظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ جس وقت ظاهری حالات یہ کہہ رہے تھے کہ یہ سلسلہ چند دنوں تک ٹوٹ جائے گا اس وقت اس ہستی نے مجھے کہا ”۔خدائی کا موں کو کون روک سکتا ہے اور اُس وقت جب تفرقہ کی ابتدا تھی اور خود ان کی طرف سے یہ کہا جا رہا تھا کہ جماعت کا اٹھانوے فیصدی حصہ ہماری طرف ہے پہلے ہفتہ کے اندراندر ہی خدا تعالیٰ نے مجھے الہا نا بتایا کہ لَيُمَزِ قَنَّهُمُ ہمیں اپنی ذات ہی کی قسم ہے کہ ہم انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے ابھی چند دن ہوئے غیر مبائعین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا مجھے اشتہار ملا۔وہ لکھتا ہے اگر چہ یہ صحیح ہے کہ ہمارے عقائد درست ہیں لیکن میرا نام لکھ کر کہتا ہے۔ہم یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ان کا الہام لَيُمَزِ قَنَّهُمْ ہمارے متعلق پورا ہو چکا۔غرض میرا یہ تجربہ ہے کہ جب خدا کسی سے کام لینا چاہتا ہے تو وہ کام ہو کر رہتا ہے اور انسانی عقل نا کام ہو کر رہ جاتی ہے اسی تجربہ کے ماتحت میں نے خان صاحب کو انگلستان روانہ کیا۔خاں صاحب سے میری پہلی ملاقات ان کے احمدیت میں داخل ہونے سے بھی پہلے ہوئی تھی۔اس وقت میں فیروز پور کسی لیکچر کیلئے گیا اور ان سے واقفیت ہوئی۔پھر حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں انہوں نے قرآن مجید کا کچھ حصہ مجھ سے سبقاً بھی پڑھا۔تو چونکہ میرے تعلقات ان سے قدیم سے تھے اس لئے میں ان پر حسن ظنی رکھتا تھا اور میں سمجھتا تھا کہ اگر ظاہری تجربہ میں کوئی کمی بھی ہوئی تو یہ دعائیں کر کے اس کمی کو پورا کر لیں گے۔اس کے بعد جب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ولا بیت گئے تو ان کی رپورٹ جو لنڈن مشن کے متعلق تھی، وہ نہایت ہی خوشکن تھی۔انہوں نے لکھا کہ اب کچھ اس قسم کی ترقی خدا کے فضل سے ہو چکی ہے کہ یوں کہنا چاہئے گویا پہلا نظام ہی بدل گیا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کی اس سنت کے ماتحت کہ جو بھی اس کے سامنے گر جائے وہ خاص طور پر اس کی نصرت فرماتا ہے خدا تعالیٰ نے خاں صاحب کو کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور میں سمجھتا ہوں اگر یہی روح ان میں قائم رہی تو خدا تعالیٰ انہیں اور بھی خدمت دین کے مواقع عطا فرمائے گا۔میری غرض اس تمام بیان سے یہ ہے کہ اصل چیز جس پر ہمارے تمام کاموں کی بنیاد ہونی چاہئے وہ اللہ تعالیٰ پر توکل ہے۔علم کے لحاظ سے ہمارے بڑے سے بڑے عالم بھی دنیا کے رے عالموں کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور درحقیقت اگر ہم یہ نہ کہیں تو ایک