انوارالعلوم (جلد 13) — Page 63
۶۳ انوار العلوم جلد ۱۳ ہمارے تمام کاموں کی بنیاد اللہ تعالی کے تو کل پر ہونی چاہئے حقیقت کا انکار ہوگا کہ اگر ہماری جماعت کے سائنسدانوں کو لیا جائے تو وہ باقی دنیا کے سائنسدانوں کے مقابلہ میں بچوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں، اگر دنیا وی علوم کو لیا جائے تو اس لحاظ سے بھی ہمارے علماء کی کوئی حیثیت نہیں، دنیا میں ایسے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی ساری عمریں محض چند مسائل کی تحقیق میں صرف کر دیں اور ان کا مقابلہ ہماری جماعت کے علماء ہی کیا ساری دنیا بھی نہیں کر سکتی، پھر اسی زمانہ میں مسلمانوں میں ایسے ایسے عالم ہیں جنہوں نے فقہ تاریخ اور حدیث کے متعلق ایسی کتابیں لکھی ہیں جو پچھلی کئی مستند کتابوں سے فوقیت لے گئی ہیں۔پس اگر ظاہری علوم کو مدنظر رکھا جائے تو ہمارا سائنسدان دوسرے سائنسدان کے مقابلہ میں ہمارا ڈاکٹر دوسرے ڈاکٹر کے مقابلہ میں، ہمارا انجینئر دوسرے انجینئر کے مقابلہ میں، ہمارا مشنری دوسرے مشنری کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔اگر عیسائی مشنریوں کو دیکھا جائے تو ہمیں ان میں ایسے عالم نظر آتے ہیں کہ وہ ظاہری علوم میں اس قدر ترقی کر چکے ہیں کہ ہمارے مبلغوں کی ان کے مقابلہ میں کوئی ہستی نہیں مگر باوجود اس کے ایک موقع بھی آج تک ایسا نہیں آیا کہ دنیا کے کسی بڑے سے بڑے عالم سے ہمیں شکست اُٹھانی پڑی ہو۔جب وہ ہمارے مقابل پر آتے ہیں تو اس قدرمرعوب ہو جاتے ہیں کہ ان کی زبانیں خشک ہو جاتی ہیں اور ان کی ڈیکلیں اور بڑیں کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتیں۔میں جب ولایت گیا تو پر و فیسر مارگولیتھ کے متعلق مجھ سے بعض انگریز اور ہند وستانی طالب علموں نے بیان کیا کہ وہ کہتا ہے میں جب قادیان گیا اور عربی میں گفتگو کرنی چاہی تو کوئی مجھ سے عربی زبان میں گفتگو نہ کر سکا۔پروفیسر مارگولیتھ اس سے پہلے قادیان آچکا تھا میں نے جب یہ باتیں سنیں تو انہیں کوئی وقعت نہ دی مگر وہ ہندوستانی طالب علم اصرار کرنے لگے کہ اب آپ ولایت آئے ہوئے ہیں یہ ایک نیکی کا کام ہے اور اسلام کی فتح ہوگی اگر اس کے دعوی کو باطل کیا جائے اس کے ساتھ عربی میں گفتگو کریں۔بعض انگریز تماش بین تھے وہ بھی اصرار کرنے لگے آخر میں نے ایک مجلس منعقد کی اور حافظ روشن علی صاحب مرحوم سے کہا کہ چائے کی پارٹی پر پروفیسر مارگولیتھ کو بھی بلانے کا ارادہ ہے اس سے آج عربی میں گفتگو کریں گے۔آخر وہ آیا اور اس سے گفتگو شروع کی گئی مگر ابھی دو چا رہی باتیں ہوئی تھیں کہ اس طرح اس کے حواس اُڑے کہ تمام لوگ حیران رہ گئے۔اس کا منہ خشک ہو گیا اور کہنے لگا آپ لوگ عالم ہیں میں آپ سے عربی میں گفتگو نہیں کر سکتا۔ارد گرد جو لوگ کھڑے تھے وہ اس کی باتوں پر ہنسنے لگے اور انہوں نے تمسخر