انوارالعلوم (جلد 13) — Page 61
۶۱ انوار العلوم جلد ۱۳ ہمارے تمام کاموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے توکل پر ہونی چاہئے کہ جب کوئی مومن خدا تعالیٰ کے دروازہ پر گر جائے تو خواہ وہ نہایت ہی کمزور ہو اس کا تجربہ محدود اور اس کا علم معمولی ہو پھر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پر گر جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے ایسی راہ نمائی حاصل ہوتی ہے کہ وہ کام میں کامیاب ہو کر نکلتا ہے اور مشکلات اس کے راستہ سے دور ہو جاتی ہیں۔مجھے یاد ہے جس وقت میری خلافت کا زمانہ شروع ہوا تو ابھی پانچ سات ہی دن ہوئے تھے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب یہیں تھے جب وہ لاہور جانے لگے تو ماسٹر عبد الحق صاحب مرحوم کی روایت تھی کہ انہوں نے آہ بھرتے ہوئے ہاتھ اُٹھا کر اور مدرسہ ہائی کی طرف اشارہ کر کے کہا ہم تو جاتے ہیں لیکن یہ عمارتیں جو سلسلہ احمدیہ کیلئے قائم کی گئیں، ایسے نا اہل لوگوں کے ہاتھوں میں آگئی ہیں کہ اب یہ سکول ٹوٹ جائے گا اور عیسائیوں کے قبضہ میں چلا جائے گا۔اس میں شبہ نہیں ظاہری حالات کے ماتحت یہ خیال صحیح سمجھا جا سکتا تھا۔میری تعلیمی حالت نہایت معمولی تھی، شستی کہو یا صحت کی کمزوری خیال کر لو، میں سکول میں کبھی اچھے نمبروں پر کامیاب نہیں ہوا تھا، دینی تعلیم ایسی تھی کہ میرے گلے اور آنکھوں کی تکلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت خلیفہ امسیح الاول کتاب خود پڑھا کرتے تھے آپ خود کمزور اور بوڑھے تھے مگر میری صحت کو اس قدر کمزور خیال فرمایا کرتے تھے کہ بخاری اور مثنوی رومی خود پڑھتے اور میں سنتا جاتا ، عربی ادب کی کتابیں بھی خود ہی پڑھتے اور جب میں پڑھنا چاہتا تو فرمایا کرتے میاں تمہارے گلے کو تکلیف ہوگی۔مجھے یاد ہے بخاری کے ابتدائی چار پانچ سپارے تو ترجمہ سے پڑھائے مگر بعد میں آدھ آدھ پارہ روزانہ بغیر ترجمہ کے پڑھ جاتے۔صرف کہیں کہیں ترجمہ کر دیتے اور اگر میں پوچھتا تو فرماتے جانے دو۔خدا خود ہی سمجھا دے گا۔میری تعلیمی حالت اور صحت کی کیفیت تو سی تھی۔پھر سلسلہ کے انتظام کے لحاظ سے ہمارا نظام میں کوئی دخل نہ تھا۔شروع سے آخر تک پورے طور پر وہی لوگ حاوی سمجھے جاتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ سارے کارکن چلے جائیں گے تو کام خود بخود بند ہو جائے گا۔مالی حالت ایسی تھی کہ جس دن وہ گئے ہیں اس دن خزانہ میں غالباً دس آنہ کی رقم تھی اور پھر انجمن پر قرض بھی تھا۔ایسے حالات میں انہیں یقین تھا کہ سلسلہ ٹوٹ جائے گا اور عیسائی ہماری درسگاہوں پر قبضہ کر لیں گے۔پس میں سمجھتا ہوں وہ کہنے والا ایک حد تک معذور تھا لیکن ان ظاہری سامانوں کے علاوہ ایک اور چیز بھی تھی اور وہ ایک بالا ہستی تھی۔وہ ایک ایسی ہستی تھی جو اندر بھی ہے اور باہر بھی