انوارالعلوم (جلد 13) — Page 275
275 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق دوسرے نبیوں کی کی گئی مگر خدا تعالیٰ نے انجام کا رانہیں فتح دی اور ان کی قوم کو ان کے ماتحت کر دیا تو وہ حضرت کرشن اور حضرت رامچند رکو کبھی جھوٹے نہ کہتے۔پھر اگر وہ اس نکتہ کو سمجھ لیتے کہ ہمیشہ صداقت ہی دنیا میں کامیاب ہوا کرتی ہے تو وہ یہ نہ کہتے کہ یہ نبی نہیں ہو سکتے۔اسی طرح ہند و اس بات کو سمجھ لیتے تو وہ کبھی محمد رسول اللہ ﷺ کو جھوٹا نہ کہتے۔اتنا تو خیال کرنا چاہیئے کہ اگر کوئی خدا ہے تو کیا اس پر افتراء کر کے کوئی بچ سکتا ہے۔کیا کوئی دنیوی گورنمنٹ ایسی ہے کہ کوئی شخص غلط طور پر کہے میں اس کا تھانیدار ہوں تو اسے نہ پکڑے۔پھر کیا عجیب بات نہیں کہ دنیوی حکومتیں تو اتنی ہوشیار ہوں کہ جعلساز کو فوراً پکڑیں مگر جھوٹے مدعی کو خدا کچھ نہ کہے بلکہ اسے پتہ بھی نہ ہو کہ اس کے نام پر کیا کیا دھو کے ہو رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ سمیع اور بصیر ہے اور دنیا کے بادشاہوں کی اس کے مقابل پر کچھ بھی حیثیت نہیں ہے ممکن نہیں کہ کوئی شخص اس پر افتراء کرے اور پکڑا نہ جائے۔ایسے شخص کو ضرور اللہ تعالیٰ اپنی طاقت کا نمونہ دکھاتا ہے۔پتھر مارنے اور پتھر کھانے والے پس یہ مت خیال کرو کہ خدا اس بات کا محتاج ہے کہ بندے اس کا نام پھیلانے کیلئے بے جا جوش دکھا ئیں اور خلاف اخلاق حرکات کریں اس سے دین کی کبھی ترقی نہیں ہوسکتی۔غور تو کرو د نیا میں جو تمام بزرگ گذرے ہیں وہ پتھر مارنے والے تھے یا کھانے والے؟ کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہوا جس نے دوسروں پر پتھر پھینکے ہوں اور کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہوا جس پر مخالفین نے تشدد نہ کیا ہو۔مسلمان خوب جانتے ہیں کہ رسول کریم عل الله طائف میں پتھروں کی جھولی بھر کر نہ لے گئے تھے۔بلکہ طائف والوں نے آپ پر پتھر برسائے تھے۔جولوگ خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں، ان کے دل نرم ہو جاتے ہیں، وہ ماریں کھاتے ہیں مگر پھر بھی منہ سے یہی کہتے جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے اور میں بھی ایسے لوگوں کے لئے جو نا جائز طریقے اختیار کرتے ہیں، خدا گواہ ہے ایسا ہی کرتا ہوں۔ان کی باتیں میرے لئے کبھی وجہ ملال نہیں ہوئیں، میں نے خلوت میں بھی اور جلوت میں بھی دعائیں کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے۔دراصل جو خدا کا ہو جاتا ہے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ محبت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لائے نہ کر متنفر کر کے ا بھگا دے۔پس اگر میں اس دعوی میں سچا ہوں کہ میں نے صداقت کو پالیا تو میری کوشش لازماً یہی ہو گی کہ لوگوں کو خدا کی طرف لاؤں نہ کہ دور بھگاؤں۔دنیا میں لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے ہاتھ تک جوڑنے میں تامل نہیں کرتے اور اگر یقین ہو جائے کہ لوگ خدا کے ہو جائیں گے تو