انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 274

274 انوار العلوم جلد ۳ تحقیق حق کا صحیح طریق ہیں اس لئے واپس جانے سے پہلے خود مباحثہ کریں۔اب ہر شخص اپنی جگہ پر غور کر سکتا ہے کہ ایک س جو سوائے خاص قومی کاموں اور ضروریات کے کبھی اپنے مرکز کو نہیں چھوڑتا، ایک خاص کام سے یہاں آتا ہے تو ایسے موقع پر اسے مباحثہ کا چیلنج دینے کے معنی ہی کیا ہو سکتے ہیں۔تحقیق حق کیلئے کیا یہی ضروری ہے کہ میں ہی مباحثہ کروں اور میرے یہاں سے چلے جانے کے بعد تحقیق حق کا امکان نہ رہے گا۔کیا کسی غیر مسلم کا یہ قول صحیح ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فوت ہو چکے اب میں کس سے اسلام سمجھوں کیونکہ صرف انہی سے میں سمجھنا چاہتا ہوں۔جب یہاں مقامی جماعت احمد یہ موجود ہے اور وہ مباحثہ کا انتظام کر سکتی ہے تو اس کے کیا معنی ہیں کہ میں اپنے پروگرام کو جو مقرر ہے تو ڑ کر مباحثہ کروں۔چیلنج دینے کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ وہ کہہ دے بھاگ گئے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر یہی بھا گنا ہے تو ہمیشہ ہی خدا کے بندے ایسی بھاگ بھاگتے آئے ہیں۔ہمارا کام تو تبلیغ حق ہے اور ہم اس کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔اگر چیلنج دینے والوں کو واقعی تحقیق کا شوق ہے تو میں ہندوستان میں ہی رہتا ہوں کسی بیرونی ملک میں نہیں وہ شوق سے قادیان آئیں، ہم انہیں ٹھہرائیں گے۔اسی غرض سے ہم نے مہمان خانہ بنایا ہوا ہے ان کے کھانے وغیرہ کا خود انتظام کریں گئے وہاں تحقیق کر لیں۔پھر یہاں ہماری جماعت موجود ہے، علماء موجود ہیں، ان سے تحقیق کر سکتے ہیں لیکن اگر وہ محض اکھاڑہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو میں ان کو نصیحت کروں گا کہ اے خدا کے بندو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں بہت بڑی غرض کے لئے پیدا کیا ہے ان باتوں کو چھوڑ دو جو اس غرض سے دور لے جانے والی ہیں۔محبت پیارا ور خدا کا خوف اپنے دلوں میں پیدا کرو کہ انہی چیزوں سے خدا مل سکتا ہے انہی سے لوگوں کے دلوں پر اثر ہو سکتا ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ بندہ سچا ہے تو اس کا بیچ اس کے کام آئے گا اور تمہاری مخالفت اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گی۔لیکن اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ ہی اسے تباہ کر دے گالے۔سچائی ہمیشہ اپنے لئے آپ رستے نکال لیتی ہے اور جھوٹ کو خواہ کتنا بھی کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے وہ کبھی کھڑا نہیں رہ سکتا جھوٹ کبھی غالب نہیں آ سکتا۔جھوٹ کو غالب کرنے کی کوشش کرنا ہی وہ مذاہب میں اختلاف کا موجب غلطی ہے جو سارے مذاہب میں اختلاف کا موجب ہے۔اگر مسلمان اس امر پر غور کرتے کہ بعض لوگ ہندوستان میں ایسے ہوئے ہیں جن کی لوگوں نے مخالفت کی ویسی ہی مخالفت جیسی حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت عیسی علیہ السلام اور