انوارالعلوم (جلد 13) — Page 276
276 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق ہمیں ان کے آگے ہاتھ جوڑنے میں بھی پس و پیش نہ ہوگا۔ان کی گالی گلوچ اور مار پیٹ کوئی چیز نہیں اگر ہمیں یقین ہو کہ جان دینے سے بھی یہ لوگ ایمان لے آئیں گے تو ہم اسے ایک بہت بڑی سعادت سمجھیں گے۔صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت کابل میں ہماری جماعت کے ایک بزرگ کو حکومت نے گرفتار کر لیا اور الزام یہ لگایا کہ اس نے نیا دین قبول کیا ہے جو جہاد کی ممانعت کرتا ہے اور اس وجہ سے یہ افغانستان کا دشمن اور مسلمانوں کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔علماء کے کہنے سے بادشاہ نے ان کی سنگساری کا حکم دے دیا۔وہ اتنے بڑے اور صاحب عزت بزرگ تھے کہ امیر حبیب اللہ خان کی تخت نشینی کے وقت تاجپوشی انہوں نے ہی کی تھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں ان کو مذہبی لحاظ سے سب سے بڑا تصور کیا جاتا تھا۔وہ بہت بڑے دولت مند اور جاگیردار تھے ناز و نعم میں پکے ہوئے تھے ایسے انسان کے لئے معمولی سی تکلیف بھی برداشت کرنا مشکل ہوتی ہے مگر انہیں ایک میدان میں جہاں تمام لوگ جمع ہوئے لا کر کھڑا کر دیا گیا۔علماء نے بادشاہ سے کہا کہ پہلا پتھر آپ پھینکیں مگر اس نے کہا کہ یہ میرا فتویٰ نہیں بلکہ آپ کا ہے، چنا نچہ علماء کی طرف سے پتھر پھینکے گئے اور پھر سب لوگوں نے سنگ باری شروع کر دی مگر وہ ہاتھ اُٹھا کر اس وقت بھی یہی دعا مانگ رہے تھے کہ خدایا میری قوم نا واقف ہے اس پر عذاب نازل نہ کرنا۔ہماری غرض ہدایت کی طرف لانا ہے۔اسی شہر میں ایک بیرسٹر متحمل کی ایک مثال تھے معلوم نہیں آج کل یہاں ہیں یا نہیں، میں ان کا نام نہیں لیتا تا کہ اگر یہاں ہوں تو شرمندگی نہ ہو میں جب حج کے لئے جار ہا تھا تو وہ بھی ڈگری لینے کے لئے اسی جہاز میں جارہے تھے۔ان کے ساتھ ایک اور ہندو بیرسٹر بھی تھے جو ان دنوں لاہور میں پریکٹس کرتے ہیں اور مشہور بیرسٹر ہیں وہ عام طور پر مذہبی گفتگو کرتے رہتے تھے اور جب ان کو علم ہوا میں احمدی ہوں تو مذہبی گفتگو کا سلسلہ اور بھی لمبا ہونے لگا۔وہ بعض اوقات بانی سلسلہ احمدیہ کو گالی بھی دے دیتے مگر میں تحمل سے جواب دیتا۔آخر گیارہ دن کے بعد جب ہم سویز پہنچے تو نامعلوم کس طرح انہیں علم ہو گیا کہ میں بانی سلسلہ احمدیہ کا بیٹا ہوں۔اس پر وہ بہت گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ معاف کیجئے مجھے علم نہ تھا، اس لئے سخت الفاظ بعض اوقات منہ سے نکل گئے۔میں نے انہیں کہا کہ اگر میں بُرا مانتا تو آپ سے کہہ دیتا میں تو چاہتا تھا