انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 258

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۵۸ احمدیت کے اصول غرضیکہ آپ نے اسلام کی خادم ایک ایسی جماعت عیسائیت پر احمدیت کا رُعب قائم کر دی ہے جس کے مقابلہ کیلئے مذہبی میدان میں یورپ بھی نہیں ٹھہر سکتا۔ایک دفعہ عیسائیوں کے تین بااثر پادری قادیان آئے۔ان میں سے ایک مسٹر لوکس پر نسپل فورمین کرسچن کالج لاہور تھے ایک مسٹر بیوم لٹریری سیکر ٹری وائی۔ایم سی۔اے اور ایک مسٹر والٹر تھے جو کہتے تھے کہ احمد یہ جماعت کے متعلق میں ایک کتاب لکھنے کیلئے مواد فراہم کرنے کی خاطر امریکہ سے آیا ہوں۔جب وہ واپس امریکہ کی طرف روانہ ہوئے تو مسٹر لوکس نے سیلون کے پادریوں کے سامنے ایک لیکچر دیا اور کہا کہ عیسائیت کے غلبہ کی کوششوں میں جب تک صحیح راستہ اختیار نہ کیا جائے گا، کامیابی نہ ہوگی۔اگر تم نے عیسائیت کو اسلام پر غالب کرنا ہے تو قادیان کی چھوٹی سی بستی کی طرف تمہیں متوجہ ہونا چاہئے جہاں عیسائیت کے مقابلہ کی زبر دست تیاریاں ہو رہی ہیں اور وہاں ایسے سامان مہیا ہو رہے ہیں جن سے عیسائیت پاش پاش ہو جائے گی۔وہ سامان کیا ہے؟ یہی کہ ہم اسلام کی ہر بات میں حکمت ظاہر کرتے ہیں۔اسلام عیسائیت کی طرح یہ نہیں کہتا عیسائیت اور اسلام کی تعلیم کا موازنہ کہ اگر تمہارے ایک گال پر کوئی تھپڑ مارے تو دوسرا بھی آگے کر دو۔قرآن کی تعلیم اس بارے میں یہ ہے کہ مارنے کے موقع پر مارو اور معاف کرنے کے موقع پر معاف کرو۔ہر حالت میں غرض اصلاح ہو۔جس طرح بھی کوئی نیک بن سکئے اسی طرح کرو۔دنیا میں دونوں قسم کے ہی لوگ ہوتے ہیں۔بعض مار سے ٹھیک ہوتے ہیں اور بعض عفو سے اس لئے اسلام نے دونوں باتیں جائز رکھیں۔یہ نہیں کہا کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی اس کے آگے کر دو! مصر میں ایک پادری صاحب وعظ کیا کرتے تھے اور روز یہی بات پیش کرتے کہ دیکھو عیسائیت کی تعلیم کیسی اچھی ہے جو دشمن کے متعلق بھی یہ کہتی ہے کہ اس کا مقابلہ نہ کرو بلکہ اگر وہ ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دو! ایک دن آپ یہی وعظ کر رہے تھے کہ ایک منچلے نے بڑھ کر ان کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔اس پر پادری صاحب بھی اسے مارنے لگے۔اس نے کہا آپ ہر روز یہ تعلیم دیتے ہیں کیا وجہ ہے کہ عمل کے وقت اس کے خلاف کرتے ہیں۔کہنے لگے۔آج تو مجھے اسلام کی تعلیم پر ہی عمل کرنا پڑے گا، نہیں تو تم روز مجھے مار لیا کرو گے۔جنگِ عظم کے موقع پر ایک فری تھنکر رسالہ نے ایک مضمون شائع کیا تھا کہ کیا وجہ ہے جرمنی اور فرانس آپس میں لڑتے ہیں اگر جرمنی نے ایک