انوارالعلوم (جلد 13) — Page 257
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۵۷ احمدیت کے اصول بچوں والا سلوک ہی ہوگا۔میں ایک دفعہ نڈ وہ کے جلسہ میں گیا وہاں ایک مولوی صاحب نماز پر لیکچر دے رہے تھے۔میں ان کا نام نہیں لیتا اس وقت وہ فوت ہو چکے ہیں لیکن یہ بتا دیتا ہوں کہ مولا ناشبلی نہ تھے۔وہ ندوہ کے مدرس تھے۔ان کے لیکچر کا خلاصہ یہ تھا کہ نماز پڑھو۔خدا کہتا ہے فائدہ اس کا یہ ہے کہ جنت ملے گی۔جنت کیا ہے۔ایک ایسی جگہ جہاں چاروں طرف خوبصورت اور جوان عورتوں کی تصویریں لگی ہونگی جس تصویر کی خواہش کی جائے گی وہ فورا متمثل ہو کر حاضر ہو جائے گی وہاں انسان کے اندر اس قدر طاقت آ جائے گی کہ خواہ ۲۴ گھنٹہ مجامعت کرتا رہے تکان محسوس نہ ہوگی۔میرے قریب لکھنؤ کے ایک بیرسٹر بیٹھے تھے وہ کہنے لگے۔خدا مولا ناشیلی کا بھلا کرے کہ آپ نے یہ لیکچر رات کو رکھا ورنہ دن کو ہوتا تو غیر مسلم بھی آجاتے اور ہمارے لئے شرم کے مارے یہاں سے اٹھنا محال ہو جاتا۔تو یہ بالکل بچہ والی بات ہے اور اگر نماز روزہ کی یہی حکمت ہے تو یہ انسان سے بالکل بچوں والا سلوک ہے اور اس صورت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی کوئی ضرورت نہ تھی۔کیا حضرت آدم یہ تعلیم نہ دے سکتے تھے۔نماز پڑھانے کیلئے اس سے چھوٹی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے اور اگر یہی دلیل تھی تو نبیوں کے اس قدر لمبے سلسلہ کی کیا ضرورت تھی۔حقیقت یہ ہے کہ جب انسان بچہ تھا، اس وقت تو بیشک ایسی تعلیم کافی تھی کہ مانو ! تو انعام ملے گا اور نہ مانو گے! تو سزا۔لیکن جوں جوں انسان ترقی کرتا گیا۔شریعت بھی بدلتی گئی حتی کہ قرآن کریم ایسی شریعت آئی جس کے ہر حکم میں حکمت ہے اور ويُعَلِّمُهُمُ الكِتب وَالْحِكْمَةَ کے یہی معنی ہیں کہ یہ جو کچھ بیان کرتا ہے۔اس کی حکمت بھی ساتھ بتا تا ہے۔مگر یہ بات مسلمانوں میں اب حضرت مسیح موعود و تعلیم کتاب و حکمت منفرد تھی اس لئے اللہ تعالی نے حضرت مرزا صاحب کو مبعوث کیا۔آپ کی کتابیں پڑھو ! آپ کو معلوم ہوگا کہ کس طرح آپ نے اسلام کے ہر مسئلہ کی حکمت ایسے رنگ میں بیان فرمائی کہ وہ اسے دیگر ادیان پر فائق ثابت کرتی ہے۔آپ کی ایک تصنیف اسلامی اصول کی فلاسفی ہے جس میں آپ نے یہی بات واضح کی ہے اور یورپ کے بڑے بڑے معقول لوگوں نے اس پر ریویو کئے ہیں اور اعتراف کیا ہے کہ اتنی چھوٹی سی کتاب میں اتنی اہم اور معقول باتیں بیان کرنا حیرت ناک امر ہے۔اس میں آپ نے بتایا ہے کہ انسان اپنے اوپر بدی کے رستے کس طرح بند اور نیکی کے دروازے کس طرح کھول سکتا ہے۔