انوارالعلوم (جلد 13) — Page 117
۱۱۷ انوار العلوم جلد ۱۳ بر در ان کشمیر کے نام سلسلہ چہارم کا دوسرا خط جو چھوٹے شہر یا قصبات ہیں وہ اپنا ایک ایک لیڈر چن لیں۔اس انتظام میں ہر ایک جماعت کو چاہئے کہ حلفیہ اس امر کا اقرار کرے کہ وہ اپنے لیڈروں کی تمام قومی امور میں فرمانبرداری کرے گی۔میں یہ صرف اس خیال سے لکھ رہا ہوں کہ شاید اس وقت تک اس قسم کا انتظام مکمل نہ ہوا ہولیکن اگر شیخ محمد عبد اللہ صاحب جیل میں جانے سے پہلے ایسا انتظام کر چکے ہیں تو جس جس جگہ یہ انتظام موجود ہے وہاں اس قسم کے انتظام کی ضرورت نہیں البتہ جہاں کوئی لیڈر مقر ر نہیں ہو چکا وہاں مقرر کر لیا جائے۔میرا جہاں تک علم ہے ابھی ریاست کا اکثر حصہ اس انتظام سے خالی ہے۔میں اس سے پونچھ اور بعض دیگر علاقوں کو مستثنی کرتا ہوں، کیونکہ وہاں کی انجمنیں اب تک نہایت منظم صورت میں کام کر رہی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ انہیں کسی نئے انتظام کی ضرورت نہیں لیکن سرینگر اور جموں کے شہروں سے باہر علاقہ کشمیر و جموں میں ابھی تک یہ انتظام مکمل نہیں وہاں فوراً اس قسم کا انتظام ہو جانا چاہئے۔یہ آپ لوگوں کیلئے مصیبت کا زمانہ ہے اور ایسے زمانوں میں بغیر ایک لیڈر کے جس کی اطاعت سب لوگ کریں ، کام نہیں چلتا اور جس طرح سارے ملک کو ایک لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح علاقوں اور شہروں اور گاؤں کو بھی ضرورت ہوتی ہے اس لئے میری پہلی نصیحت تو آپ لوگوں کو یہ ہے کہ جس جس جگہ کوئی ایسا شخص موجود نہیں کہ جس کی اطاعت کا آپ اقرار کر چکے ہیں اس اس جگہ فوراً ایک لیڈر منتخب کر کے کام کو منظم کرنے کی کوشش کریں۔اگر کسی وقت وہ لیڈ ر قید ہو جائے یا کام چھوڑ دے یا فوت ہو جائے تو اسی وقت دوسرا آدمی اس کی جگہ مقرر کر دیا جائے۔جہاں جہاں ایسے آدمی پہلے سے مقرر ہیں یا جہاں پہلے مقرر نہیں تھے اور اب مقرر کئے جائیں، انہیں چاہئے کہ مجھے اپنے ناموں اور پتوں سے اطلاع دیں تا کہ میں انہیں ضروری حالات سے آگاہ رکھوں اور تا کہ ان کی جو امداد مجھ سے ممکن ہو اس کا سامان کروں۔میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو جو لوگ اس قومی تحریک میں شامل ہونا چاہیں، ان سب سے حلفیہ اقرار لیا جائے کہ وہ ہر قسم کی شورش اور فساد سے بچیں گے کیونکہ بغیر حلف کے لوگ وقت پر اپنے فرائض کو بھول جاتے ہیں لیکن جب وہ قسم اٹھا لیں تو وہ قسم انہیں ان کے فرائض یاد دلاتی رہتی ہے۔چاہئے کہ آپ کی مظلومیت ہمیشہ واضح رہے جب تک آپ کی مظلومیت ثابت کی جا سکے گی اس وقت تک آپ غالب رہیں گے۔جب یہ امر مشتبہ ہو جائے گا اس وقت لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور آپ کی تحریک کی ساری طاقت زائل