انوارالعلوم (جلد 13) — Page 118
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۱۸ بر در ان کشمیر کے نام سلسلہ چہارم کا دوسرا خط ہو جاۓ گی۔جولوگ لیڈر مقرر ہوں یا پہلے سے مقرر ہیں، انہیں چاہئے کہ کامیابی کیلئے مندرجہ ذیل طریق اختیار کریں۔ا۔جب تک شیخ محمد عبداللہ صاحب قید سے آزاد نہ ہوں، اس وقت تک تمام لوگوں کو نصیحت کریں کہ روزانہ گھروں میں ان کی آزادی کیلئے دعا کریں اس سے ہر گھر میں شیخ صاحب کا ذکر بھی تازہ رہے گا اور بچوں، بوڑھوں ، عورتوں، مردوں سب کو یہ یادر ہے گا کہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو آزاد کرانا ان کا فرض ہے اس طرح یہ دعا خود ان کے اندر بھی زندگی قائم رکھے گی۔۲۔دوسرے ان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ بغیر شور کرنے کے اپنے محلہ یا شہر کے لوگوں کو سیاسی حالات سے باخبر رکھیں اور ان کے علاقہ میں جو ظلم ہوں، ان سے فوراً اپنے مرکزی انتظام کو اور مجھے خبر دیں تا کہ اس کے متعلق مناسب کارروائی کی جاسکے۔۔چونکہ ان دنوں حکومت پر یہ اثر ڈالا جا رہا ہے کہ لوگ شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور چونکہ پبلک مظاہرے اس وقت مناسب نہیں ہیں، اس لئے اس بات کو ظاہر کر نے کیلئے کہ ملک کلّی طور پر شیخ محمد عبد اللہ صاحب کے ساتھ ہے چاہئے کہ کوئی نشان ایسا مقرر کر لیا جائے جس کو دیکھتے ہی ہر شخص یہ سمجھ لے کہ یہ لوگ شیخ محمدعبداللہ صاحب کے ساتھ ہیں۔میرے خیال میں اگر ایک سیاہ نشان ہر ایک شخص اس وقت تک کہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب جیل سے نکلیں اپنے بازو پر باندھ لے تو یہ ایک عمدہ ذریعہ حکومت پر اس امر کے ظاہر کرنے کا ہوگا کہ ملک سوائے چند ایک لوگوں کے کلی طور پر شیخ محمد عبد اللہ صاحب کے ساتھ ہے۔اس طرح بغیر جلوس نکالنے کے ہر گلی اور کو چے میں چلتے ہوئے لوگ اس نشان کے ذریعہ سے حکومت پر واضح کر دیں گے کہ ہم شیخ محمد عبداللہ صاحب کو اپنا لیڈر سمجھتے ہیں اور چونکہ اس طرح فرداً فرداً اپنے خیال کے ظاہر کرنے میں کسی فساد کا خطرہ نہیں ہو سکتا ، حکومت بھی اس میں دخل نہ دے سکے گی اور ایک طرف تو ملک منظم ہوتا چلا جائے گا اور دوسری طرف ملک کی رائے کا اظہار ایک پر امن طریق سے ہوتا رہے گا مگر اس قسم کے انتظام کو بااثر بنانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ یہ انتظام وسیع ترین پیمانہ پر کیا جائے اور حتی الوسع شیخ صاحب کے ساتھ تعلق رکھنے والا کوئی فرد اس سے باہر نہ رہے۔آخر میں میں پھر آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔میں یہ مضمون لکھ ہی رہا تھا کہ مجھے بعض نہایت خوش کن خبریں ملی ہیں جن سے میں سمجھتا ہوں کہ خدا کے فضل سے آپ