انوارالعلوم (جلد 13) — Page 10
انوار العلوم جلد ۱۳ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف صرف ایک نو جوان اس جگہ کے جماعت میں شامل ہیں۔لوگوں نے انہیں دکھ دیا اور بہت سی تکالیف پہنچائیں ہیں وہ ایک اعلیٰ عہدے پر ہیں مگر انہوں نے اس بات کو بھی غیرت کے خلاف سمجھا کہ مجھ سے اس واقعہ کا ذکر کریں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ کئی ہیں جو کہہ دیا کرتے ہیں ہائے ہم مر گئے ڈپٹی کمشنر سے سفارش کرو کہ تکالیف دور ہوں۔کیا ڈپٹی کمشنر خدا سے بھی تمہارا زیادہ خیر خواہ ہے۔اگر تم ماریں کھاتے ہو اور خدا کو غیرت نہیں آتی تو کوئی ڈپٹی کمشنر تمہارے لئے کیا کر سکتا ہے بلکہ یہ تو تمہارے لئے ذلت اور رسوائی ہے کہ ہمارے آقا اور مولیٰ نے تو ہمارے لئے حرکت نہ کی ، نہ ہمارے پیارے نے ہمارے لئے غیرت دکھائی اور ہم ڈپٹی کمشنر کی پناہ لینا چاہتے ہیں۔پس دین کے لحاظ سے یعنی اس وجہ سے کہ تم کیوں اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کرتے ہو، اگر تمہیں تکالیف پہنچتی ہیں تو فخر کرنا چاہئے اور انہیں ان تکالیف سے علیحدہ سمجھنا چاہئے جو دنیاوی امور کی وجہ سے پیش آتی ہیں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں جو اس فرق کو نہیں سمجھتے اور وہ دنیوی تکلیفوں کے متعلق یہ خیال کر لیتے ہیں کہ یہ دین کی وجہ سے پہنچیں حالانکہ اگر وہ واقعی دین کیلئے تکالیف ہیں تو تمہیں خوش ہونا چاہئے اور اگر دنیاوی تکالیف ہیں تو ان کا نام دینی مصائب رکھنا غلطی ہے۔پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے دل میں عشق پیدا کرو،سوز پیدا کرو اور اگر تمہیں خدا کیلئے کوئی تکلیف پہنچے تو اُسے ایسا ہی سمجھو جیسا عاشق اپنے محبوب کے متعلق خیال کرتا ہے اور سمجھ لو کہ خدا تم سے ان تکالیف کی وجہ سے ناز کر رہا ہے اس عشق کو لے کر نکلو اور اس یقین کو لے کر جاؤ کہ خدا کے عاشق دنیا پر غالب آیا کرتے ہیں۔مایوسیاں چھوڑ دو کہ خدا کی جماعت کبھی مایوس نہیں ہوا کرتی۔دنیا تمہارا شکار ہے اور یہ تکالیف محض اللہ تعالیٰ تمہاری مشق کرانے کیلئے ، تمہارے دل میں سوز اور درد پیدا کرنے کیلئے اور تمہارے عشق کو بڑھانے کیلئے لاتا ہے۔اگر تم ان تکالیف کو ہٹانا چاہتے ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم اپنے سوز اور عشق کو کم کرنا چاہتے ہو حالانکہ انہیں بڑھانے کی ضرورت ہے نہ کہ کم کرنے کی۔پس تم سوز اور عشق کو لے کر نکلو۔فلسفہ ہمیشہ غیر کیلئے ہوتا ہے مگر جب تم اپنے ہو گئے تو اب تمہارے لئے صرف سوز اور عشق رہ گیا۔اگر ہم یہاں دلیلیں بیان کرتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ تمہارے سامنے پیش کریں بلکہ اس لئے کہ تم انہیں غیروں کے سامنے پیش کیا کر و۔عاشق صادق دلیلوں کا محتاج نہیں ہوتا وہ تو سوز اور عشق کا طلبگار ہوتا ہے۔جس کو محسوس ہو رہا ہے کہ محبوب کا ہاتھ اُس کی گردن میں ہے وہ کب کسی دلیل کے سننے کا خواہشمند