انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 9

انوار العلوم جلد ۱۳ اللہ تعالٰی کے راستہ میں تکالیف دنیا کا کام شہادت کے کام سے بڑھ کر نہیں اور کوئی دنیا کی عزت اللہ تعالیٰ کے راستہ میں مار اور گالیاں کھانے سے زیادہ اعزاز والی نہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کیلئے گالیاں کھا نا ذلت ہے تو نَعُوذُ بِاللهِ ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ نبی بھی اس سے حصہ پاتے رہے کیونکہ انبیاء کو ہمیشہ گالیاں دی جاتی رہیں۔پس گالیاں ذلت کا سامان نہیں بلکہ عزت کا باعث ہیں۔کوئی شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر گالیاں کھانے والا نہیں ہو سکتا۔آج تک رنگیلا رسول وغیرہ کتا ہیں جو شائع ہوئیں وہ انہی گالیوں کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔اگر گالیاں کھانا ذلت ہے تو کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے خدا نے ذلت کے سامان پیدا کئے؟ نہیں بلکہ خدا کیلئے گالیاں کھانا عزت ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے اس عزت کا سب سے بڑھ کر سامان ہوتارہا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کا کیا بگاڑا تھا جو انہیں لوگوں کی طرف سے گالیاں ملتیں۔آپ کا اگر کوئی جرم تھا تو یہی کہ آپ شیطان کے سب سے بڑے دشمن تھے۔پس وہ گالیاں گالیاں نہیں تھیں بلکہ اس بات کا اقرار تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے ایک نور لائے ہیں جسے اندھی دنیا قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔پس وہ اپنے عنا دکو گالیوں کی صورت میں ظاہر کرتی۔یہ جذبہ اور یہ روح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت جماعت کے لوگوں میں موجود تھی مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ کم ہو رہی ہے۔یعنی دین کیلئے جو تکالیف پیش آئیں انہیں لوگ ذلّت سمجھتے اور گھبرانے لگتے ہیں حالانکہ یہ ابتلاء تو وہ ہیں کہ آئندہ لوگ ترسیں گے مگر انہیں یہ دیکھنے نصیب نہیں ہونگے۔جب اللہ تعالیٰ احمدیت کو غلبہ دے گا، جب بادشاہت اس جماعت کو مل جائے گی پھر کون ہو گا جو احمد یوں پر انگلی بھی اُٹھا سکے گا مگر کیا تم سمجھتے ہو اُس وقت کے لوگ آج کل کے لوگوں سے افضل ہوں گے۔اُس وقت کا بادشاہ بھی آجکل کے فقیر سے ادنیٰ ہوگا۔پچھلے ایام میں جب مستریوں کا فتنہ اُٹھا اگر چہ ہمارے لوگوں کو غصہ آتا تھا مگر میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا تھا کہ اس ذریعہ سے اُس نے میری روحانی ترقی کا سامان کر دیا۔میں سوچا کرتا تھا کہ میں قادیان میں رہتا ہوں میرے بس میں یہ کہاں تھا کہ میں ایسے لوگ کھڑے کر دیتا جو مجھ پر بھی حملے کرتے۔اصل بات یہ ہے کہ جو تکلیف ہمارے نفس کی طرف سے ہو اُس کا تو ازالہ کرنا چاہئے مگر جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے اُسے خوشی سے برداشت کرنا چاہئے۔یہ روح ہے جو ہماری جماعت کو پیدا کرنی چاہئے اور یہ روح ہے جس سے قومیں ترقی کیا کرتی ہیں۔کل ہی ایک دوست نے مجھے ایک واقعہ سنایا جس سے مجھے بہت لطف آیا۔ایک جگہ ہماری نئی جماعت قائم ہوئی ہے