انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 11

11 انوار العلوم جلد ۳۔اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف ہوتا ہے۔ایک بچہ جو اپنی ماں کی گود میں ہو، کیا کبھی اس سے کوئی پوچھا کرتا ہے کہ اس بات کی دلیل دو کہ یہ تمہاری ماں ہے۔وہ ہر ایسے شخص کو پاگل سمجھے گا اور کہے گا میں تو اپنی ماں کی گود میں بیٹھا ہوا ہوں اور یہ مجھ سے دلیل مانگ رہا ہے۔پس اسی طرح ہمارے لئے بھی کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔تم دنیا کی ساری دلیلیں لے جاؤ اور لے جا کر انہیں سمندر میں غرق کر دو ہم خدا سے مل چکے ہیں اور ہم نے خدا کے مسیح کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔پس ہمارے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔دلیلیں تو اندھوں کیلئے ہوا کرتی ہیں۔دلیل کہتے ہیں راہ دکھانے کو۔کبھی سو جا کھوں کو بھی راہ دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔پس دلیلیں اندھوں کیلئے ہیں ان کے لئے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نورِ بصارت عطا نہیں فرما یا مگر تمہیں اللہ تعالیٰ نے بینائی دی اور تم اس کے نور سے منور ہوئے پس تم دلیلوں کے محتاج نہیں۔تمہارے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ تم اپنے دل میں عشق پیدا کر و۔عشق وہ چیز ہے جو دل میں پیدا ہوتی ہے اور دلیل وہ ہے جو باہر سے آتی ہے۔تمہاری راہنمائی کوئی دلیل نہیں ہونی چاہئے بلکہ تمہارا راہنما تمہارا دل ہو۔قرآن مجید میں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نَزَّلَهُ عَلَی قَلْبِكَ که قرآن کریم اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر اُتارا۔اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ غیروں کیلئے ہیں اور اس کا مفہوم ہمارے لئے ہے۔قرآن کریم کے ظاہری الفاظ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہیں تھے بلکہ ابو جہل کیلئے تھے۔محمدصلی اللہ علیہ وسلم کیلئے تو وہ محبت تھی جو ان الفاظ کے نتیجہ میں پیدا ہوئی اور آپ کے دل پر محیط ہو گئی۔لوگوں نے اس آیت سے غلطی کی وجہ سے یہ سمجھا ہے کہ قرآن مجید الفاظ میں نازل نہیں ہوا مگر یہ صیح نہیں۔قرآن تو الفاظ میں ہی نازل ہوا ہے مگر وہ الفاظ غیر کیلئے ہیں ہمارے لئے اس کا مفہوم ہے۔وہ کون سا قرآن ہے جو تبدیل نہیں ہوسکتا وہ وہی ہے جو ہمارے دل میں ہے۔وہی ہے جس میں کوئی تغیر نہیں ہو سکتا۔اس قرآن میں تو کئی جگہ کا پی نویس زبر کی جگہ زیر لکھ دیتے اور اس طرح الفاظ تبدیل کر دیتے ہیں مگر وہ قرآن جو خدا کے جلال کو لے کر اُترا ہے وہ مومن کے دل میں ہوتا ہے۔الفاظ کی ظاہری حفاظت بھی اللہ تعالیٰ نے کی ہے مگر پھر بھی اس قرآن میں کتابت کی غلطیاں ہو سکتی ہیں لیکن وہ قرآن جس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں وہی ہے جو مومن بندے کے دل میں محفوظ ہوتا ہے۔پس اس مغز کو لے کر اُٹھو اور اس سوز کو لے کر جاؤ جو مومن کا خاصہ ہے اور اس دیوانگی کے ساتھ نکلو جس پر تمام فرزانگیاں قربان کی جاسکتی ہیں۔ہم ایک ٹوٹا پھوٹا شعر کہتے ہیں اور جب تک ہم دس ہیں کو سُنا نہیں لیتے اور اُن سے داد نہیں