انوارالعلوم (جلد 13) — Page 129
۱۲۹ انوار العلوم جلد ۱۳ آہ! نادر شاہ کہاں گیا تھے جس کے صلہ میں ان کا وظیفہ بھی بڑھا دیا گیا تھا۔پس ان کے زمانہ میں تو کوئی شخص وہم بھی نہیں کر سکتا تھا کہ افغانستان آزاد ہو جائے گا اور اس کا امیر بادشاہ بن جائے گا لیکن اُس وقت جبکہ انسانی دماغ اس تغیر کے امکان کا خیال بھی نہیں کر سکتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ بالا الہام میں بتایا گیا کہ افغانستان آزاد ہو جائے گا اور اس کا امیر شاہ کہلائے گا اور خدا تعالیٰ کے خاص نشان سے نادر جو ایک معمولی فوجی افسر تھا، اس ملک کی بادشاہت حاصل کرے گا۔پیشگوئی کے اور حصوں کو جانے دو صرف اس حصہ کو لے کر دیکھو کس طرح ایک حکومت کی آزادی کی اور پھر اس کے فرمانروا کی اور ایسے فرمانروا کی جس نے غلام ملک کو آزاد کرایا تباہی کی اور اس کے بعد نادر جیسے انسان کی ، جس کے درمیان اور تخت افغانستان کے درمیان بیسیوں اور مستحق اشخاص حائل تھے بادشاہت کی خبر دی ہے اور پھر وقوع سے چھپیں سال پہلے۔کیا یہ زندہ نشان نہیں؟ کیا یہ محیر العقول پیشگوئی نہیں؟ (۴) جب بچہ سقہ نے بغاوت کی ہے جرنیل نادر خان اُس نادر خان کی علالت وقت یورپ میں بیمار پڑے تھے۔وہاں سے وہ با وجود بیماری کے ہندوستان آئے لیکن آتے ہی پھر سخت بیمار ہو گئے اور عرصہ تک پشاور میں ان کو بیمار رہنا پڑا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ امان اللہ خان کے ساتھ مل کر جنگ میں شامل نہ ہو سکے۔اگر وہ بیمار نہ ہوتے اور امان اللہ کے ساتھ جنگ میں شامل ہو جاتے اور فتح حاصل کر لیتے تو یقیناً تخت امان اللہ خان کے ہاتھ میں آتا اور نادر خان بادشاہ نہ ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بیمار کر کے اس وقت تک فتح سے روکے رکھا جب تک کہ امان اللہ خان شکست کھا کر ملک سے بھاگ نہ گئے۔پس اس میں بھی ایک زبر دست نشان تھا اور پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے یہ ایک الہی تدبیر تھی اور اپنی ذات میں ایک مستقل نشان۔(۵) اگر اُس وقت نا در خان کو بھی اپنے بادشاہ بننے کا خیال نہ تھا کے اعلانات دیکھے جائیں جبکہ نادرشاہ اپنے ملک کو استبداد سے آزاد کرانے کے لئے کوشش کر رہے تھے تو اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت تک ان کے اپنے ذہن میں بھی بادشاہت کا خیال نہ تھا بلکہ جب تک امان اللہ خان ملک میں رہے وہ برابر ان کی تائید کرتے رہے اور جب وہ حکومت سے دست بردار ہو کر ملک چھوڑ گئے تو اُس وقت سے نادر خان صاحب نے برابر یہ اعلان کیا کہ انہیں خود حکومت