انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 128

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۲۸ آہ! نادر شاہ کہاں گیا بغاوت کو فرو کر نے پر مقرر ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زبردست کامیابی دی جس کی وجہ سے ان کو عہدہ میں ترقی ملی اور وہ افغانستان کے قابل ترین آدمیوں میں سمجھے جانے لگے۔(۲) امیر حبیب اللہ خان یکدم مارے گئے اور کا بل وزیر جنگ اور سپہ سالار بننا سے باہر مارے گئے جس کی وجہ سے عنایت اللہ خان جو ان کے بڑے بیٹے اور امیر نصر اللہ خان کے داماد تھے، اپنے سر سمیت اُس وقت امیر حبیب اللہ خان کے ساتھ تھے بادشاہت سے محروم رہ گئے۔کابل کے لوگوں نے فساد کے خوف اور اس طبہ کی وجہ سے کہ امیر حبیب اللہ خان کا قتل امیر نصر اللہ خان اور سردار عنایت اللہ خان کی سازش سے ہوا ہے امان اللہ خان کو تخت پر بٹھا دیا۔امان اللہ خان کو اس عہدہ کے حصول کے لئے شاہ خاشی عبد القدوس خان سے مدد لینی پڑی جو نادر خان کے قریبی رشتہ دار تھے۔پس باوجود اس کے کہ انہیں نادر خاں پر یہ شبہ تھا کہ امیر حبیب اللہ خان کے خلاف سازش میں ان کا بھی حصہ ہے چند دنوں کی نظر بندی کے بعد انہوں نے انہیں اپنے عہدہ پر بحال کر دیا۔اس کے معاً بعد افغانستان اور انگریزوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور اس میں ان کو اس قدر ز بر دست کامیابی ہوئی کہ سپہ سالا را اور وزیر جنگ دونوں عہدے ان کو مل گئے اور یہ جنگ ان کے حق میں ابر رحمت ہو گئی اور تخت شاہی کے اور بھی قریب ہو گئے کیونکہ اس جنگ نے انہیں سمت جنوبی کے لوگوں میں محبوب بھی بنادیا اور ان کی لیاقت کا سکہ بھی ان لوگوں کے دلوں پر بٹھا دیا۔(۳) جب یہ الہام ہوا اُس وقت افغانستان کا درجہ ایک افغانستان کا آزاد ہونا ریاست کا تھا اور اس الہام میں نادر کو شاہ بتایا گیا تھا۔اگر افغانستان آزاد حکومت نہ بنتی اور کسی طرح سردار نادر خان اس کے حاکم ہو جاتے تب بھی وہ امیر کہلاتے نہ کہ بادشاہ۔پس اس الہام میں افغانستان کی حکومت میں ایک زبردست تغیر کی، جس کے نتیجہ میں افغانستان نے آزاد ہو جانا تھا خبر دی گئی تھی۔۱۹۰۵ء میں جب یہ الہام ہوا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ افغانستان آزاد ہو جائے گا۔روس کی حکومت کا خطرہ اس طرح حکومت ہند کو لگا رہتا تھا کہ انگریزی حکومت کو ایک منٹ کے لئے بھی افغانستان کی آزادی تسلیم کرنے کا خیال نہیں آ سکتا تھا۔امیر عبدالرحمن جیسا زبردست حاکم یہ جرأت نہ کر سکا کہ انگریزوں سے استقلال کا خواہاں ہو۔پھر امیر حبیب اللہ میں کب یہ طاقت ہو سکتی تھی کہ آزادی حاصل کرے بلکہ امیر حبیب اللہ خان نے تو اپنے باپ سے بھی زیادہ انگریزوں سے تعلقات بڑھالئے۔