انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 130

انوار العلوم جلد ۱۳ آہ! نادر شاہ کہاں گیا کی خواہش نہیں ملک کے لوگ جو فیصلہ مشورہ کے بعد کریں گے وہ اُسی پر کار بند ہوں گے۔بات ظاہر کرتی ہے کہ عین اُس وقت بھی جبکہ وہ ملک کی آزادی کے لئے جد و جہد کر رہے تھے خود ان کے نزدیک ان کا بادشاہ ہونا ناممکن تھا۔لیکن اس کے مقابل میں اُس الہام کو دیکھو کہ ۱۹۰۵ ء میں پورے چھپیں سال پہلے ان کے بادشاہ ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔نادر خان کی بے سروسامانی (1) جب وہ خوست کے علاقہ میں داخل ہوئے ہیں تو ان کی حالت ایسی کمزور تھی کہ پریس جاری کرنے کی بھی ان کو طاقت نہیں، ملک کے لوگوں کو صحیح حالات سے اطلاع دینے کے لئے انہوں نے اخبار جاری کرنا چاہا اور اس کے لئے ایک سٹائلو پر لیس جو معمولی چالیس پچاس روپیہ کی چیز ہے، انہوں نے خریدا اور دورانِ جنگ میں اخبار ” اصلاح اسی پر چھپ کر شائع ہوتا رہا۔ایسے محدود وسائل کے ساتھ بچہ سقہ جیسے دشمن کا مقابلہ جس نے امیر امان اللہ خان جیسے بادشاہ کو ان کے تمام ہتھیاروں اور فوجوں کے باوجود شکست دی تھی، نیچا دکھانا کوئی معمولی کام نہ تھا۔اور خود اپنی ذات میں ایک نشان تھا اور صرف خدا تعالیٰ کے فضل سے پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے یہ سامان پیدا ہوئے کہ باوجود بے سروسامانی خرابی صحت اور طوائف الملوکی کے نادر خان بچہ سقہ کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔افغانستان نے صرف نادر خان کو بادشاہت کا اہل سمجھا (۷) نادر خان اعلان کر چکے تھے کہ وہ بادشاہت کے متمنی نہیں اور ملک جو فیصلہ کرے گا انہیں منظور ہو گا اور اس پر انہوں نے عمل بھی کیا اور لوگوں سے مشورہ لیا۔غالب خیال یہی تھا کہ چونکہ شاہی خاندان کے بہت سے افراد زندہ موجود تھے اور چونکہ امراء عام طور پر آپس میں رقابت رکھتے ہیں اس لئے بچہ سقہ کے فتنہ کے فرو ہو جانے پر اول تو لوگ امیر امان اللہ خان کو واپس بلانے کا مشورہ دیں گے اور اگر اُن کی بعض حرکات سے لوگ ناخوش تھے تو کم سے کم اُن کے خاندان کے کسی اور شہزادے کو تخت پیش کریں گے لیکن الہی فیصلہ کو کون روک سکتا تھا۔جو تخت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نادر کو ۳ مئی ۱۹۰۵ ء کو انعام کے طور پر مل چکا تھا، جو نادر اس لئے کھڑا کیا گیا تھا کہ تا امیر حبیب اللہ خان کا خاندان لَا يَمُوتُ وَلَا يَحْي کی زندگی بسر کرے اُس تخت سے کون نادر کو محروم کر سکتا تھا ؟ اُس نادر کو کون بادشاہت کے فیصلہ کے وقت نظر انداز کر سکتا تھا ؟ آخر وہی ہوا جو خدا تعالیٰ کی طرف