انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 450

۴۵۰ باتیں نہیں سنتے- اگر آپ دین میں کچھ نرمی کر دیں تو ہم لوگ آپ کے پاس آ کر بیٹھا کریں- اس طرح دوسرے لوگ بھی آپ کے پاس آنے لگیں گے- اس پر رسول کریم ﷺ کو خیال آیا کہ اگر ایسا کر دیا جائے تو پھر بڑے بڑے لوگ مان لیں گے- (مجھے کیا ہی لطف آیا اس شخص کے اس فقرہ سے جس کا نام نولڈکے ہے- وہ لکھتا ہے- ‘’معلوم ہوتا ہے- یہ روایت بنانے والے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے جیسا ہی بیوقوف سمجھتے تھے’‘- غرض رسول کریم ﷺ کو نعوذ باللہ دین میں نرمی کرنے کا خیال آیا- اتنے میں آپﷺ نماز پڑھنے لگے اور سورہ نجم پڑھنی شروع کی- اس وقت شیطان نے افرئیتم اللت والعزی- ومنوة الثالثة الاخری۴۵؎کے بعد یہ کلمات آپﷺ کی زبان پر جاری کر دیئے کہ وتلک الغرانیق العلی- وان شفاعتھن لترتجی کیا تم نے لات اور عزیٰ اور منات کی حقیقت نہیں دیکھی- یہ بہت خوبصورت دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی بڑی امید ہے- چونکہ سورہ نجم کے آخر میں سجدہ آتا ہے- رسول کریم ﷺ نے سجدہ کیا- تو سب کفار نے بھی آپﷺ کے ساتھ سجدہ کر دیا- کیونکہ انہوں نے سمجھ لیا کہ آپﷺ نے دین میں نرمی کر دی ہے- اور بتوں کو مان لیا ہے- اس روایت کو اتنے طریقوں سے بیان کیا گیا ہے کہ ابن حجر جیسے آدمی کہتے ہیں کہ اس کی تاویل کی ضرورت ہے- گو تاریخی طور پر یہ روایت بالکل غلط ہے- اور میں ثابت کر سکتا ہوں کہ یہ محض جھوٹ ہے مگر اس وقت میں کسی تاویل میں نہیں پڑتا- میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن اس کے متعلق کیا کہتا ہے- اور کیا واقعہ میں رسول کریم ﷺ سے ایسا ہوا؟ اس موقعہ پر میں ایک مسلمان بزرگ کا قول بھی بیان کرتا ہوں جو مجھے بے انتہا پسند ہے میں تو جب بھی یہ قول پڑھتا ہوں ان کیلئے دعا کرتاہوں- یہ بزرگ قاضی عیاض ہیں- وہ فرماتے ہیں- شیطان نے رسول کریم ﷺ پر تو کوئی تصرف نہیں کیا البتہ بعض محدثین کے قلم سے شیطان نے یہ روایت لکھوا دی ہے- گویا اگر شیطان کا تسلط کسی پر کرانا ہی ہے تو کیوں نہ محدثین پر کرایا جائے- رسول کریم ﷺ کو درمیان میں کیوں لایا جائے- بعض نادان کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سورہ نجم پڑھتے ہوئے یہ آیتیں بھی پڑھ دیں- اس پر جبریل نازل ہوا اور اس نے کہا- آپﷺ نے یہ کیا کیا- میں تو یہ آیتیں نہیں لایا تھا یہ تو شیطان نے جاری کی ہیں- یہ معلوم کر کے رسول کریم ﷺ کو سخت فکر ہوا- خدا تعالیٰ