انوارالعلوم (جلد 12) — Page 451
۴۵۱ نے اس فکر کو یہ کہہ کر دور کر دیا کہ وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطن فی امنیتہ فینسخ اللہ مایلقی الشیطن ثم یحکم اللہ ایتہ واللہ علیم حکیم- ۴۶؎فرمایا- تم سے پہلے بھی کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں بھیجا گیا کہ جب اس کے دل میں کوئی خواہش پیدا ہوئی ہو تو شیطان نے اس میں دخل نہ دے دیا ہو- پھر اللہ تعالیٰ شیطان کی بات کو مٹا دیتا ہے- اور جو اس کی اپنی طرف سے ہوتی ہے اسے قائم رکھتا ہے- کہتے ہیں جب یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل کی تو رسول کریم ﷺ کی تسلی ہو گئی- تسلی کس طرح ہوئی اسی طرح جس طرح اس بڑھیا عورت کی ہو گئی تھی جس سے کسی نے پوچھا کہ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تمارا کبڑا پن دور ہو جائے یا یہ کہ دوسری عورتیں بھی تمہاری طرح کبڑی ہو جائیں- اس نے کہا- مجھ پر تو دوسری عورتوں نے جس قدر ہنسی کرنی تھی کر لی ہے- اب باقی عورتیں بھی کبڑی ہو جائیں تا کہ میں بھی ان پر ہنسوں- اس روایت کو درست قرار دینے والوں کے نزدیک رسول کریم ﷺ کی کس طرح تسلی ہوئی- اس طرح کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو کہہ دیا کہ تم پر ہی شیطان کا قبضہ نہیں ہوا سب نبیوں پر ہوتا چلا آیا ہے- یہ سن کر رسول کریم ﷺ کا فکر دور ہو گیا- کتنی نامعقول بات ہے- ان لوگوں نے کبھی اتنا بھی نہ سوچا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- واللہ علیم حکیم اللہ تعالیٰ جاننے والا اور حکمت والا ہے- کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ شیطان کا ہر نبی اور رسول پر قبضہ پا لینا بڑی حکمت کی بات ہے- اور پھر علیم کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے- میں بیان کر رہا تھا کہ ایک بزرگ کے قول سے مجھے بڑا مزہ آتا ہے- ان کا نام قاضی عیاض ہے- وہ اس قسم کی روایتیں نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان سے یہ تو پتہ لگ گیا کہ شیطان کا تصرف ہوا- مگر رسول کریم ﷺ پر نہیں بلکہ ان روایتوں کو نقل کرنے والوں کی قلموں پر ہوا ہے- یہ بہت ہی لطیف بات ہے- قرآن کریم نے اس کا جو جواب دیا ہے- وہ اسی جگہ موجود ہے جہاں کہتے ہیں کہ شیطان نے آیتیں نازل کیں- یعنی تلک الغرانیق العلی- وان شفا عتھن لترتجی کے بعد کہتے ہیں کہ یہ آیات اتریں- الکم الذکر ولہ الانثی- تلک اذا قسمة ضیزی- ان ھی الا اسماء سمیتموھا انتم واباو کم ما انزل اللہ بھا