انوارالعلوم (جلد 12) — Page 76
۷۶ قابلِ تعریف تھا اور اس کے خلاف لکھنا جرم ہے تو یقیناً بھگت سنگھ کا فعل اس سے سینکڑوں گنے زیادہ قابل تعریف ہے اور اس کے خلاف لکھنا اور بھی جرم ہے- ملک معظّم کے بعض نمائندوں کی غداری حقیقت یہ ہے کہ ملک معظم کے ان نمائندوں میں سے جو ہندوستان میں مقرر ہیں بعض نے اورنگ زیب کے خلاف مضمون لکھوا کر اور سیواجی کی تعریف کر کے اس اعتماد کو جو ملک معظم نے ان پر کیا تھا غلط ثابت کر دیا ہے اور حکومت برطانیہ سے غداری کی ہے اور فسادات اور بغاوت کا ایسا دروازہ کھول دیا ہے کہ کانگریس پر بھی اس سے بڑھ کر الزام نہیں لگایا جا سکتا- وہ خیال کر رہے تھے کہ ہم اورنگ زیب کو برا بھلا کہلوا کر اور سکول کے کورسوں میں اس کی مذمت لکھوا کر ہندوستان کے ماضی کو مٹا رہے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے تھے کہ ہندوستان کا بے حد چالاک پنڈت اسی ذریعہ سے اپنے لئے ایک شاندار مستقبل تیار کر رہا ہے اور برطانیہ کی ہندوستانی حکومت کے عین دل پر اسی طرح ایک خنجر مار رہا ہے جس طرح سیواجی نے افضل خان کے دل پر خنجر مارا تھا- سچ ہے چاہ کن را چاہ درپیش- مسلمانوں کا گورنمنٹ سے مطالبہ اورنگ زیب کا بدلہ حکومت برطانیہ نے لینے سے انکار کر دیا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے بدلہ لیا اور بہت عبرتناک طور پر لیا- یعنی سیواجی کو بھگت سنگھ کے بھیس میں کھڑا کر کے حکومت سے اس کے رویہ کی مذمت کروا دی اور اس کی پالیسی کی غلطی کا اس سے اعتراف کروا لیا- لیکن مسلمانوں کا حق ابھی موجود ہے وہ حق رکھتے ہیں کہ حکومت سے یہ مطالبہ کریں کہ یا تو اورنگ زیب اور دوسرے مسلمان بادشاہوں کے خلاف بے معنی پروپیگنڈا کو بند کروایا جائے کہ جو اول انگریزوں نے شروع کیا اور اب اسے مہاسبھائی ذہنیت کے ہندو جاری رکھے جا رہے ہیں- یا پھر مسلمان یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوں گے کہ حکومت کے نزدیک بھگت سنگھ کا یہ فعل بھی قابل تحسین ہے- اور اگر بعض لوگ اپنی اولادوں کے دلوں میں اس نیک فعل کی یاد تازہ رکھنے کے لئے بھگتسنگھ کی برسی منایا کریں تو یقیناً مسلمان ان سے ہمدردی رکھیں گے- لیکن کیا حکومت اس فعل کو جائز رکھے گی؟ سیواجی اور بھگت سنگھ دونوں قاتل اور باغی تھے قتل اور بغاوت بہرحال قتل اور بغاوت ہیں خواہ گورنمنٹ