انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 77

۷۷ آف انڈیا کی طرف سے انہیں برکت حاصل ہو یا کانگریس کی طرف سے- ہم تو بااصول آدمی ہیں ہم تو سیواجی اور بھگت سنگھ دونوں کو قاتل اور باغی سمجھتے ہیں اور دونوں کے فعل کو قابل ملامت خیال کرتے ہیں اور انگریزی حکومت کو سیواجی کی پشت پناہی اور کانگریس کو بھگت سنگھ کی تائید کے لئے یکساں مجرم خیال کرتے ہیں- ان دونوں نے ملک کے اخلاق بگاڑ دیئے ہیں اور دونوں خدا اور مخلوق کے سامنے جواب دہ ہیں- کاش گورنمنٹ سیواجی کی حمایت اور اورنگزیب کی مذمت کر کے بھگت سنگھ پیدا نہ کرتی اور کانگریس بھگت سنگھ کی تائید کر کے آئندہ نسلوں کے قاتل اور غارت گر بننے کے لئے راستہ نہ کھولتی- ایک آریہ اخبار اور اورنگ زیب ایک آریہ اخبار اپنی عادی ناسمجھی سے کام لے کر میرے خطبہ کے اس حصہ کے متعلق یہ لکھتا ہے کہ اورنگ زیب نے اپنے باپ کو قید کیا اس کی تائید کس طرح کی جا سکتی ہے- گویا سیواجی اس کے خیال میں اس لئے قابل تعریف ہے کہ اس نے اورنگ زیب کا مقابلہ اس کے اپنے باپ سے بغاوت کرنے کے سبب سے کیا تھا لیکن یہ درست نہیں- سیواجی خود ہی اپنے والد کا فرمانبردار نہ تھا وہ اورنگ زیب کے خلاف اس لئے کیونکر کھڑا ہو سکتا تھا اور اگر اس کے اس طرح کھڑے ہونے کی یہی وجہ تھی تو اس نے حاجیوں کو لوٹنے کا ارتکاب کس جرم کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا تھا اور اگر یہ درست ہے کہ سیواجی اس لئے بغاوت پر آمادہ ہوا تھا کہ شاہجہان کا بدلہ لے تو جہانگیر اور شاہ جہان کے اس قسم کے فعل کا مقابلہ کرنے کے لئے کون سا ہندوسورما کھڑا ہوا تھا- مُغل شہزادوں کی بغاوت کی وجہ اصل بات یہ ہے کہ مغل شہزادوں کی بغاوت جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے ہندو راجاؤں کی ریشہ دوانی کی وجہ سے تھی- ہر مغل شہزادہ جو بغاوت پر آمادہ ہوا وہ ہندو راجاؤں کی مخفی تائید رکھتا تھا- پس یہ بغاوتیں درحقیقت ہندوؤں کی چالاکیوں سے اور اسلامی حکومت کی تباہی کی غرض سے ہوئی تھیں اور شاہزادوں کا یہ قصور تھا کہ وہ اپنے ہندو مشیروں کے فریب میں آ گئے اور ان کی چکنیچپڑی باتوں کو انہوں نے قبول کر لیا- صرف اورنگ زیب ہی ایک مغل شہزادہ تھا جس نے اپنے بھائیوں کا مقابلہ اصول کے ماتحت کیا- یعنی اس نے صرف اس وجہ سے اپنے بھائیوں سے جنگ کی کہ وہ ہندو اثر سے متاثر ہو کر جن اصول پر اس وقت حکومت کی بنیاد قائم تھی انہی