انوارالعلوم (جلد 12) — Page 450
انوارالعلوم جلد ۱۴ ۴۵۰ فضائل القرآن (۴) باتیں نہیں سنتے۔ اگر آپ دین میں کچھ نرمی کر دیں تو ہم لوگ آپ کے پاس آکر بیٹھا کریں۔ اس طرح دوسرے لوگ بھی آپ کے پاس آنے لگیں گے۔ اس پر رسول کریم سلیم کو خیال آیا کہ اگر ایسا کر دیا جائے تو پھر بڑے بڑے لوگ مان لیں گے۔ ( مجھے کیا ہی لطف آیا اس شخص کے اس فقرہ سے جس کا نام نولڈ کے ہے ۔ وہ لکھتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے۔ یہ روایت بنانے والے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے جیسا ہی بیوقوف سمجھتے تھے ۔ " غرض رسول کریم ملی تیم کو نعوذ باللہ دین میں نرمی کرنے کا خیال آیا۔ اتنے میں آپ نماز پڑھنے لگے اور سورۃ نجم پڑھنی شروع کی۔ اس وقت شیطان نے اَفَرَءَ يْتُمُ اللَّتَ وَالْعُزَّى وَمَنْوةَ الثَّالِثَةَ ی الأخرى ۲۵ کے بعد یہ کلمات آپ کی زبان پر جاری کر دیے کہ وَتِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلى - وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْ تَجْی کیا تم نے لات اور عربی اور منات کی حقیقت نہیں دیکھی۔ کے آخر چونکہ سوره نجم یہ بہت خوبصورت دیویاں ہیں اور ان ان کی شفاعت کی بڑی امید ہے۔ چون آخر میں سجدہ آتا ہے۔ رسول کریم میں سلیم نے سجدہ کیا۔ تو سب کفار نے بھی آپ کے کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے سمجھ لیا کہ آپ نے دین میں نرمی کر دی ہے۔ اور بتوں کو ساتھ سجدہ کر دیا۔ مان لیا ہے۔ اس روایت کو اتنے طریقوں سے بیان کیا گیا ہے کہ ابن حجر جیسے آدمی کہتے ہیں کہ اس کی تاویل کی ضرورت ہے۔ گو تاریخی طور پر یہ روایت بالکل غلط ہے۔ اور میں ثابت کر سکتا ہوں کہ یہ محض جھوٹ ہے مگر اس وقت میں کسی تاویل میں نہیں پڑتا۔ میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن اس کے متعلق کیا کہتا ہے۔ اور کیا واقعہ میں رسول کریم میں ہم سے ایسا ہوا ؟ اس موقع پر میں ایک مسلمان بزرگ کا قول بھی بیان کرتا ہوں جو مجھے بے انتہا پسند ہے میں تو جب بھی یہ قول پڑھتا ہوں ان کیلئے دعا کرتا ہوں۔ یہ بزرگ قاضی عیاض ہیں۔ وہ فرماتے ہیں۔ شیطان نے رسول کریم صلی اللہ پر تو کوئی تصرف نہیں کیا البتہ بعض محدثین کے قلم سے شیطان نے یہ روایت لکھوا دی ہے ۔ گویا اگر شیطان کا تسلط کسی پر کرانا ہی ہے تو کیوں نہ محد ثین پر کرایا جائے ۔ رسول کریم ملی کام کو درمیان میں کیوں لایا جائے۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ رسول کریم میں ہم نے سورۃ نجم پڑھتے ہوئے یہ آیتیں بھی پڑھ دیں۔ اس پر جبریل نازل ہوا اور اس نے کہا۔ آپ نے یہ کیا کیا۔ میں تو یہ آیتیں نہیں لایا تھا یہ تو شیطان نے جاری کی ہیں۔ یہ معلوم کر کے رسول کریم میں ہم کو سخت فکر ہوا۔ خدا تعالیٰ