انوارالعلوم (جلد 12) — Page 420
انوار العلوم جلد ۱۲ ۲۲۰ فضائل القرآن (۴) کے سوا کوئی اور آسمانی کتاب بھی کلام اللہ کے نام کی مستحق ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام کلام اللہ نہیں رکھا گیا۔ پھر اس کو ہم کلام اللہ کیسے کہہ سکتے ہیں۔ خصوصاً جب کہ میں آئندہ ثابت کروں گا کہ تاریخاً بھی ان میں سے کوئی کتاب کلام اللہ نہیں۔ قرآن کریم میں انبیاء کو کلمہ کہا گیا ہے۔ الہامات کو کلمات کہا گیا ہے ۔ بلکہ کلمات اللہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ كَلَّمَ اللهُ مُوسَى تَكْلِيمًا ، موسی سے خدا نے خوب اچھی طرح کلام کیا۔ لیکن باوجود اس کے حضرت موسیٰ کی کتاب جس کا بہت سی جگہ قرآن کریم میں ذکر آیا ہے۔ اسے کلام اللہ نہیں کہا گیا۔ جیسا کہ فرمایا - نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتٰبَ كِتَبَ اللهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ لا یعنی وہ لوگ جن کو کتاب اللہ دی گئی تھی انہوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال دیا گویا کہ انہیں علم ہی نہیں۔ پس صاف معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اللہ اور کلام اللہ میں فرق ہے۔ کتاب اللہ ہر اس کتاب کو جس میں خدا کی باتیں ہوں کہا جا سکتا ہے۔ لیکن کلام اللہ ہر ایک کو نہیں کہا جا سکتا۔ دوسری الہامی کتابوں کو کتاب اللہ کہا گیا ہے۔ اور کتاب اللہ کا لفظ قرآن کے متعلق بھی موجود ہے مگر دوسرا لفظ کلام اللہ صرف قرآن کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔ کسی اور کے لئے نہیں۔ یہ فرق ہے اور یہ بغیر حکمت کے نہیں۔ اس فرق کو سمجھنے کیلئے یاد رکھنا چاہئے کہ انبیاء کی وحی کئی قسم کی وحی الہی کی مختلف اقسام ہوتی ہے ۔ (۱) ایک وہ وحی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں كه الله الله کانوں میں پڑتی ہے۔ اور زبان پر جاری ہوتی ہے۔ مثلاً خدا تعالیٰ نے رسول کریم میں ہم کو نايا - الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - - یہ الفاظ کان میں آواز کے طور پر پڑے۔ اور زبان پر جاری ہوئے۔ اس آیت کا ال ح م د اور ان کے اعراب سب خدا تعالی کے بتائے ہوئے ہیں۔ یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے ایک مضمون رسول کریم ملی ایم کے دل میں ڈال دیا۔ بلکہ ہر حرف اور ہر لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے ۔ یہ وحی سب انبیاء پر نازل ہوئی۔ (1) دوسری وحی رویا اور کشوف ہیں۔ یہ الفاظ میں نہیں بلکہ نظاروں میں ہوتی ہے۔ مثلا رسول کریم میں جب اُحد کی جنگ میں تشریف لے جانے لگے۔ تو آپ نے دیکھا کہ آپ کی تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے۔ اور دیکھا کہ ایک گائے ذبح کی جا رہی ہے۔ آپ نے فرمایا۔ تلوار کی شکستگی سے مراد فتح ہے جو مشتبہ ہوگی۔ اور گائے کے ذبح ہونے سے مراد یہ ہے