انوارالعلوم (جلد 12) — Page 418
۴۱۸ حکم دیتے ہیں کہ حکومتوں کے دستور کے خلاف اگر کوئی غیر قوم کا فرد تمہارے پاس آئے اور کلام اللہ سننا چاہے- تو اسے سناؤ- اگر وہ نہ مانے اور واپس جانا چاہے تو اسے واپس پہنچا دو اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے- دوسری جگہ آتا ہے- افتطمعون ان یومنوا لکم وقدکان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحر فونہ من بعدما عقلوہ وھم یعلمون ۲؎فرمایا- اے مسلمانو! کیا تم اس بات کی امید رکھتے ہو کہ وہ تمہاری باتیں مان لیں گے- بعض صحابہ ؓ سمجھتے تھے کہ یہود ہماری باتیں مان لیں گے- ان کے ساتھ مسلمانوں کی دوستیاں تھیں- تعلقات تھے- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- کیا تمہاری ایسی دوستی ہے کہ وہ تمہاری بات مان لیں گے حالانکہ ان میں سے ایک جماعت آتی ہے- قرآن سنتی ہے- پھر یحر فونہ من بعد ما عقلوہ وھم یعلمون اس کا مفہوم سمجھنے کے بعد اور بات بنا لیتی ہے- جو جھوٹ ہوتی ہے- حالانکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ جھوٹ بول رہے ہیں- جب قرآن کے متعلق ان کا یہ حال ہے- تو تمہاری باتیں کہاں مان سکتے ہیں- بعض نے یہاں کلام اللہ سے تورات مراد لی ہے مگر رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں کون سے ایسے یہودی علماء تھے کہ جن کی تحریف کوئی اثر رکھتی تھی- معمولی درجہ کے لوگ تھے- اگر کوئی سردار تھا تو محلہ کے سردار سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا تھا- اس لئے مدینہ کے یہود کو خیال بھی نہیں آسکتا تھا کہ اگر وہ تورات کو بدل کر پیش کریں گے تو لوگ مان لیں گے- وہ یہی کرتے تھے کہ رسول کریم ﷺ کی صحبت میں آتے- قرآن کریم سنتے- اور پھر بالکل جھوٹی باتیں جا کر بیان کرتے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور قادیان کے متعلق لوگ غلط بیانیاں کرتے تھے- فیروزپور کے علاقہ کے ایک شخص نے دوسروں سے بیان کیا کہ میں ایک دفعہ قادیان گیا تو مجھے مہمان خانہ میں ٹھیرایا گیا- ہمارے پہنچتے ہی معلوم ہوا کہ مرزا صاحب نے حلوہ بھیجا ہے- اور کہا ہے کہ سب مہمانوں کو کھلا دو- باقی سب مہمانوں نے تو کھا لیا لیکن میں نے موقع پا کر پھینک دیا- کچھ دیر بعد مرزا صاحب مجھے ساتھ لے کر فٹن میں سیر کو نکلے- (اس سے پتہ لگتا ہے کہ وہ قادیان آیا ہی نہیں تھا)رستہ میں مجھ سے باتیں کرتے رہے- اور کہا میں ہی خدا ہوں- یہ سن کر میں نے لاحول پڑھا-اس پر ان کا رنگ فق ہو گیا- اور مولوی نور الدین صاحب کی طرف دیکھ کر کہنے لگے- کیا اسے حلوہ نہیں کھلایا تھا؟ مولوی صاحب کا بھی رنگ اڑ گیا- اور انہوں نے کہا میں نے تو حلوہ بھیج دیا تھا- نہ معلوم کیا