انوارالعلوم (جلد 12) — Page 417
۴۱۷ نہ صرف تبدیلی ہو سکتی ہے بلکہ ہوئی اور قرآن میں نہ ہوئی بلکہ نہیں ہو سکتی ایک ہی چیز میں یہ فرق کیوں ہے؟ میں ابھی بتاؤں گا کہ یہ حیرت در حقیقت درست نہیں اور یہ قرآن کریم کی افضلیت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے کہ یہ کلام اللہ ہے- اس وجہ سے قرآن نہ صرف غیر الہامی کتب سے افضل ہے یا الہامی کتب کی موجودہ شکل سے ممتاز ہے- بلکہ یہ اس کی ایسی فضیلت ہے کہ اس میں کبھی بھی کوئی کتاب اس کی شریک نہیں ہوئی- پہلی الہامی کتب کلام اللہ نہیں تھیں یہ ایک غلط خیال ہے کہ پہلی الہامی کتب بھی کلام اللہ تھیں- میرا یہ مطلب نہیں کہ موجودہ توریت کلام اللہ نہیں- بلکہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو کتاب دی گئی تھی- وہ بھی کلام اللہ نہ تھی- اسی طرح میرا یہ مطلب نہیں کہ موجودہ انجیل کلام اللہ نہیں- یہ تو حضرت مسیح علیہ السلام پر نازل ہی نہیں ہوئی مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مسیح پر جو انجیل نازل ہوئی وہ موجود ہوتی تو بھی ہم یہی کہتے کہ وہ کلام اللہ نہیں- وہ کتاب اللہ تھی وہ ما انزل علی المسیح تھی مگر کلام اللہ نہ تھی- اسی طرح اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحف آج موجود ہوتے اور اگر حضرت نوح علیہالسلام کے صحف آج موجود ہوتے اور اگر ایک لفظ بھی ان میں کسی انسان کا داخل نہ ہوتا تب بھی وہ کلام اللہ نہ ہوتے- ہاں کتاب اللہ ہوتے- قرآن کریم میں کلام اللہ کا لفظ تین جگہ استعمال ہوا ہے- اور تینوں جگہ قرآن کے متعلق ہی استعمال ہوا ہے- اور قرآن ہی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ کلام اللہ ہے- اول سورۃ توبہ رکوع اول میں آتا ہے- وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلام اللہ ثم ابلغہ مامنہ ذلک بانھم قوم لایعلمون]۱؎خدا تعالیٰ فرماتا ہے- اے رسول! اگر مشرکوں میں سے کوئی شخص تجھ سے پناہ مانگے تو تو اسے پناہ دے- حتی یسمع کلام اللہ یہاں تک کہ تیری صحبت میں رہ کر وہ کلام اللہ سن لے- ثم ابلغہ مامنہ پھر اسے امن کی جگہ پہنچا دو- ذلک بانھم قوم لایعلمون- یہ اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ وہ قوم دین کا علم نہیں رکھتی اور جب تک علم دین حاصل نہ کرے گی کس طرح دین سیکھ سکے گی- گو کفار کے ساتھ لڑائی ہے- وہ تم سے جنگ کر رہے ہیں- اور جنگ کی حالت میں غیر کو مارنے کا تمہیں حق حاصل ہے لیکن چونکہ تم مذہبی پیشوا ہو- اس لئے ہم تمہیں