انوارالعلوم (جلد 12) — Page 356
۳۵۶ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف بقاری حالانکہ تفاسیر کی کتب میں لکھا ہے کہ اس وقت کوئی لکھی ہوئی چیز نہ تھی جو آپ کو پڑھنے کیلئے دی گئی- صرف منہ سے یہ الفاظ کہلوائے گئے تھے اور جب حضرت جبرئیل علیہالسلام نے اصرار کے ساتھ تین دفعہ یہی کہا تو آپ نے پڑھا جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ خود لیڈری نہیں چاہتے تھے بلکہ خدا چاہتا تھا کہ آپ کو دنیا کا راہنماء بنائے اور جسے خدا بنانا چاہے اسے کون روک سکتا ہے- اس کیریکٹر میں آپ دوسرے انبیاء سے ایسے مشابہ ہیں کہ اگر دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے اپنے مقدس رہنماؤں اور انبیاء کے حالات پر نظر کریں تو فوراً انہیں معلوم ہو جائے کہ رسول کریم ﷺ کا یہ کیریکٹر انبیاء سے ملتا ہے‘ دنیا داروں سے نہیں ملتا- دوسری خوبی جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے یہ ہے کہ من انفسکم یعنی یہ تم میں سے ہی ہے- تم میں سے ہونا بظاہر معمولی بات معلوم ہوتی ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے جس کی وجہ سے آپ راہنماؤں میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں- انبیاء اپنے آنے کی غرض ہمیشہ یہ بتاتے ہیں کہ دنیا کی راہنمائی کریں اور اچھا نمونہ پیش کر سکیں اور ظاہر ہے کہ اگر نمونہ ان حالات سے نہیں گزرا‘ اس قسم کی حرصیں اور روکیں اسے پیش نہیں آئیں جو عام لوگوں کو آتی ہیں تو وہ نمونہ نہیں ہو سکتا- اسی مشکل کی وجہ سے عیسائی یہ خیال کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے تھے مگر انسان کے وجود میں آئے- ہندو صاحبان کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ خدا کے اوتار انسانی یا دوسری مخلوقات کے بھیس میں دنیا میں آتے رہے ہیں تا وہ دنیا کیلئے نمونہ ہو سکیں گویا تمام مذاہب اس اصل کو تسلیم کرتے ہیں کہ صحیح نمونہ ہم جنس ہی ہو سکتا ہے اگرچہ اس میں شبہ نہیں کہ اس کی اور ہماری طاقتوں میں تفاوت ہوتا ہے- تو رسول کریم ﷺ کی ایک اور صفت اس آیت میں یہ بیان کی گئی کہ آپ منکم ہیں- یعنی انسانوں میں سے ہیں- خدا تعالیٰ بھی قرآن میں فرماتا ہے کہ کہہ دے انا بشر مثلکم ۵؎جس کا یہ مطلب ہے کہ تم جن حالات سے فرداً فرداً گزرتے ہو محمد رسول اللہ ﷺ ایسا کامل نمونہ ہے کہ ان سب سے گزر کر تمہاری راہنمائی کر رہا ہے- اس میں باقی انبیاء سے آپ کی شان بالا نظر آتی ہے - ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ حضرت مسیح علیہالسلام ایک اعلیٰ درجہ کے نبی تھے لیکن یہ نہیں کہ آپ ہر زمانہ اور ہر قسم کے لوگوں کیلئے نمونہ تھے- مثلاً آپ کی شادی ثابت نہیں اس لئے شادی شدہ لوگوں کی متاہلانہ زندگی میں