انوارالعلوم (جلد 12) — Page 357
۳۵۷ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف آپ کوئی راہنمائی نہیں کر سکتے- آپ بادشاہ نہیں ہوئے کہ آج بادشاہ کہہ سکیں مسیح ہمارے لئے بھی نمونہ ہے- مگر انفسکم میں غریب‘ امیر‘ بادشاہ‘ رعایا‘ مظلوم سب شامل ہیں اور یہ سب کیلئے بولا جا سکتا ہے- پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- اے دنیا کی قومو! تم خواہ کسی پیشہ‘ کسی مقام اور کسی درجہ کی حالت میں ہو‘ کوئی جماعت ایسی نہیں کہ جس کے حالات سے محمد رسول اللہ ﷺ نہ گزرا ہو- بادشاہ‘ غریب‘ طاقتور‘ مظلوم‘ شادی شدہ‘ صاحب اولاد‘ مزدور‘ زراعت و تجارت پیشہ‘ غرضیکہ تم کسی جماعت سے تعلق رکھتے ہو‘ ہم تمہیں کہتے ہیں لقد جاء کم رسول من انفسکم تم میں سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ محمد رسول اللہ ﷺ اس کی مشکلات نہیں جانتا- بادشاہو! تم یہ خیال نہ کرو کہ اس پر وہ ذمہ داریاں نہیں تھیں جو بادشاہوں سے تعلق رکھتی ہیں- مظلومو! تم یہ خیال نہ کرو کہ وہ ہماری حالت کو کہاں سمجھ سکتا ہے- وہ تم میں سے ہر ایک کی حالت سے خود گزر چکا ہے اور تمام ضروریات و مشکلات کو سمجھتا ہے اور سب کے احساسات سے بخوبی واقف ہے اور سب کیلئے علاج پیش کرتا ہے- اب میں چند ایک مثالوں سے بتاتا ہوں کہ کس طرح رسول کریم ﷺ نے ہر حالت میں اعلیٰ و اکمل نمونہ دکھایا- سب سے پہلے میں آپ کی پہلی زندگی کو لیتا ہوں- آپ پر یتیمی کی حالت گزری‘ آپ کے والد پیدائش سے قبل ہی فوت ہو چکے تھے اور بہت چھوٹی عمر میں والدہ کا بھی انتقال ہو گیا مگر دادا کی زیر نگرانی جو باپ کا قائمقام تھا آپ نے بتا دیا کہ اخلاق کیسے ہونے چاہئیں- یتیم کی حالت دو قسم کی ہوتی ہے یا تو بچہ بہت ہی سر چڑھ جاتا ہے یا بہت ہی پژمردہ- اگر اس کے نگران ایسے لوگ ہوں جو اس کی دلجوئی کے خیال سے ہر وقت لاڈ ہی کرتے رہیں تو اس کی اخلاقی حالت بہت گر جاتی ہے اور اگر وہ ایسے لوگوں کی تربیت میں ہو جو سمجھیں کہ ہمارا بچہ تو یہ ہے نہیں اور وہ تشدد کریں تو یتیم کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے- مگر بچپن میں ہی رسول کریم ﷺ کا نمونہ ایسا تھا کہ آپ کے ہمجولی بیان کرتے ہیں گھر میں کسی چیز کیلئے آپ چھینا جھپٹی نہ کرتے تھے بلکہ وقار کے ساتھ اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے تھے حتیٰ کہ چچی خود بلا کر آپ کا حصہ دیتیں پھر آپ وقار کے ساتھ ہی اس کا استعمال کرتے- آپ کی رضاعی والدہ کا بیان ہے کہ آپ میں ایسی سعادت تھی کہ بچے بھی حیران رہ جاتے تھے- رضاعی بھائی بیان کرتے ہیں آپ لغو کھیلیں نہ کھیلتے‘ مذاق کر لیتے تھے مگر جھوٹی باتوں سے سخت نفرت تھی- اس زمانہ میں ایسی ہمدردی آپ میں تھی کہ چھوٹے بچے بھی آپ کو اپنا سردار سمجھتے تھے غرضیکہ آپ کی بچپن کی زندگی ایسی