انوارالعلوم (جلد 12) — Page 355
۳۵۵ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف اس سے مشابہ ہیں اس لئے رسول کریم ﷺ کا یہ کیریکٹر سمجھنے میں کسی قوم کو دقت پیش نہیں آ سکتی- جن مثالوں کی بناء پر ان قوموں نے حضرت موسیٰؑ‘ حضرت عیسیٰؑ‘ حضرت کرشنؑ‘ حضرت بدھؑ‘ حضرت زرتشتؑ کو تسلیم کیا ہے اور مانا ہے کہ ہماری خیر خواہی کے جذبات سے متاثر ہو کر وہ آگے آئے تھے- کیا وجہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں وہ انہیں تسلیم نہ کریں- ایک موٹی مثال ہندوستان کے بزرگوں میں سے حضرت بدھؑ کی ہمارے سامنے ہے ہمارے ایک ہندو دوست لالہ رام چند منچندہ صاحب نے ابھی اپنی تقریر میں شکایت کی ہے کہ ہندو مسلمان ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے- میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ جہاں تک میری قابلیت تھی کیونکہ سنسکرت تو میں جانتا نہیں‘ باقی ہندو لٹریچر کا میں نے کافی مطالعہ کیا ہے لیکن اس نگاہ سے ہر گز نہیں کہ عیب جوئی کروں بلکہ اس نیت سے کہ چونکہ میرے آقا نے کہا ہے ہر جگہ خوبیاں موجود ہیں اس لئے دیکھو‘ کہ اس میں کیا خوبیاں ہیں؟ اور میں نے وید‘ گیتا‘ رامائن اور گوتم بدھ سب کی تعلیمات میں خوبیاں دیکھی ہیں- چاہے عقائد مختلف ہوں مگر میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ان بزرگوں کو دنیا کی عمارت میں بہت اہم مقام حاصل ہے اور انہوں نے اس کی ترقی میں بہت حصہ لیا ہے- گوتم بدھ جب بعض واقعات سے متاثر ہو کر اپنے گھر سے نکلے تو ان کی چہیتی بیوی سو رہی تھی انہوں نے اسے جگا کر ملنا تک پسند نہ کیا کہ شاید اس کی محبت بھری نگاہیں رکاوٹ کا موجب ہو جائیں اور آپ گھر سے یہ اقرار کر کے نکل گئے کہ جب تک خدا کو نہ پالوں نہیں لوٹوں گا- اب وہ کون ہندو یا مسلمان ایسا سخت دل ہو سکتا ہے جس کی چشم ان واقعات کو پڑھ کر پرنم نہ ہو جائے- آپ جہاں جہاں جا سکتے تھے گئے- گیا۴؎ میں جب آپ نے روحانی ترقیات حاصل کیں تو لوگ آئے تھے کہ ہمیں اپنا شاگرد بنا لو- مگر آپ انکار کرتے تھے حتی کہ جب فکر میں گردن جھکائے رہنے والے کو خدا تعالیٰ کی آواز نے اٹھایا اور کہا جا کر لوگوں کو تبلیغ کرو تب انہوں نے تلقین شروع کی- اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم میں وقار اور عزت رکھنے کے باوجود لیڈری کی خواہش نہ کی بلکہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو یہ حکم ملا تو آپ نے یہی کہا کہ بہتر ہو اگر یہ خدمت میرے بھائی ہارون علیہ السلام کے سپرد کر دی جائے اور جب خدا تعالیٰ نے آپ کو ہی منتخب کیا تو آپ آگے بڑھے- اسی طرح رسول کریم ﷺ کو جب الہام ہوا کہ اقرا تو آپ نے فرمایا- ما انا