انوارالعلوم (جلد 12) — Page 192
۱۹۲ کا مطالبہ کر رہے تھے- دوسری طرف ریاست جو مسلمانوں کو سردست کچھ بھی دینے کو تیار نہیں معلوم ہوتی‘ ان لوگوں سے دوستانہ برتاؤ کر رہی تھی اور مسٹر عبداللہ جیسے آدمی کو جن کے مطالبات نہایت معقول تھے‘ اپنا دشمن قرار دے رہی تھی- ریاست کا یہ سلوک صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ ریاست کے ایجنٹ تھے اور مسٹر عبداللہ رعایا کے حقیقی خیر خواہ تھے- دوسرا کام یعنی مسلمانوں میں تفرقہ ڈالوانے کا کام بھی ریاست نے خود مسلمانوں سے لیا اور انہی میں سے بعض لوگوں کو اس کام کے لئے کھڑا کیا کہ فرقہ بندی کا سوال اٹھائیں- حالانکہ فرقہ بندی مذہبی شے ہے اور کشمیر کی آزادی کا سوال مذہبی نہیں بلکہ سیاسی ہے- کیا اگر ہندو اٹھ کر آج مسلمانوں کے مطالبات کی تصدیق کرنے لگیں اور کہیں کہ ان حقوق کے ملنے سے ہمارا بھی فائدہ ہے‘ تو کیا کوئی مسلمان ہے جو کہے گا کہ ہندوؤں کا ہم سے کیا تعلق؟ بلکہ ہر مسلمان شوق سے ان ہندوؤں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا اور ہندوؤں کی امداد کو امداد غیبی سمجھے گا- یا مثلاً مہاراجہ صاحب اختیار دینے کو تیار ہوں تو کیا کوئی کہے گا کہ وہ ہندو ہیں ہم ان سے کچھ نہیں مانگتے- یا جب سرینگر کے مظالم کے موقع پر بعض انگریزوں نے بعض مسلمانوں کو مارنے پیٹنے سے بچانے کے لئے کوشش کی تھی تو کیا وہ مسلمان انہیں یہ کہتے تھے کہ ہم عیسائی کافر سے مدد نہیں لیتے ان ڈوگروں کو مارنے دو تم ہمیں نہ بچاؤ- غرض یہ ایک بالکل خلاف عقل سوال تھا اور اصل بات یہ تھی کہ ریاست کے حکام جانتے تھے کہ کشمیر کی آزادی کے لئے آئینی جدوجہد میں میرا بہت سا دخل ہے اور وہ اسی جدوجہد سے زیادہ خائف تھے- پس ریاست نے یہ کوشش شروع کی کہ مجھے تنگ کرے اور کشمیر کمیٹی سے استعفاء دینے پر مجبور کر دے- لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو ایک ارادہ کر کے اس سے پیچھے ہٹ جائیں- مجھے اگر کشمیر کمیٹی سے استعفاء دینا پڑتا تو بھی میں اہل کشمیر کی مدد سے دست کش نہ ہوتا- اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے امید ہے کہ اہلکشمیر کے آزاد ہونے تک مجھے ان کی خدمت کی برابر توفیق ملتی رہے گی- اے میرے رب! تو ایسا ہی کر اور مجھے اس مظلوم قوم کی مدد کرنے کی اور بے غرض اور بے نفس خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما- آمین اللھم آمین اس تفرقہ ڈلوانے کے کام پر اس قدر زور دیا گیا کہ ریاست کے بعض حکام نے خود بلوا کر میر واعظ محمد یوسف شاہ صاحب کو لاہور بھجوایا جہاں انہوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ میں صدارت