انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 191

۱۹۱ سے تعاون کریں گے اور میں نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا تھا‘ ریاست کا ایک ایجنٹ جسے اسی قسم کے کاموں کے لئے باہر سے بلوایا گیا تھا‘ مسٹر گلینسی سے ملا اور انہیں اس نے کہا کہ مسلمان تم سے تعاون کرنا نہیں چاہتے- اور اس طرح انہیں مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا- مگر چونکہ مسلمان تعاون کرنے کے لئے تیار تھے‘ اس کا علاج اس شخص نے یہ کیا کہ مسلمانوں سے کہا کہ مسٹر گلینسی تم سے ملنا نہیں چاہتے‘ میں انہیں سمجھا کر منوا دیتا ہوں- اور پھر مسٹر گلینسی کو یہ بتا کر کہ میں نے بڑی محنت سے مسلمانوں کو منوایا ہے اپنے جرم پر پردہ ڈالا اور ساتھ ہی مسٹرگلینسی کی طبیعت میں شروع میں ہی مسلمان لیڈروں سے بغض پیدا کر دیا- چنانچہ مولوی عبدالرحیم درد ایم-اے سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی جو کہ عرصہ سے آپ لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں‘ انہیں ایک رات گیارہ بجے بلا کر ریذیڈنٹ صاحب اور مسٹر گلینسی نے صبح کے تین بجے تک جو گفتگو کی اس سے صاف ظاہر تھا کہ دونوں صاحبان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر بھرنے کی پوری کوشش کی گئی تھی- اسی سلسلہ میں ایک کوشش یہ کی گئی کہ بعض اہالیان کشمیر سے جو درحقیقت ریاست کے بعض حکام سے ساز باز رکھتے ہیں اور ان کی خفیہ چھٹیاں معتبر لوگوں نے دیکھی ہیں‘ یہ اعلان کروایا کہ وہ لوگ کشمیر کے لئے آزاد اسمبلی چاہتے ہیں- یہ امر کہ یہ لوگ بعض حکام ریاست کے سکھانے پر ایسا کر رہے تھے‘ اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ ساتھ کے ساتھ کہے جاتے ہیں کہ وہ مہاراجہ صاحب کے اقتدار کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے- حالانکہ آزاد اسمبلی کے معنی ہی یہ ہیں کہ مہاراجہ صاحب کے کل اختیار لے کر اسمبلی کو دے دیئے جائیں سب اختیار مہاراجہ صاحب سے لے لئے جائیں تو پھر ان کا اقتدار کہاں باقی رہا- غرض یہ دونوں باتیں ایسی متضاد اور ایک دوسرے سے مخالف ہیں کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسمبلی کا مطالبہ خود حکام ریاست انگریزوں کو یہ بتانے کے لئے کہ اہل کشمیر کے مطالبات خلاف عقل اور باغیانہ ہیں کرواتے تھے- اصل میں یہ لوگ ریاست کے ایجنٹ تھے- تبھی تو یہ کہتے تھے کہ ہم مہاراجہ صاحب کے اقتدار میں کوئی فرق نہیں لانا چاہتے- دوسرا ثبوت کہ یہ لوگ ریاست کی طرف سے اس کام پر مقرر ہوئے تھے یہ ہے کہ یہ لوگ ریاست کی موٹروں میں ریاست کے خرچ پر سفر کرتے رہے ہیں اور حکام ریاست نے تاریں دے دے کر انہیں بلوایا ہے اور ان کو اپنے کاموں پر بھجوایا ہے- اب کیا کوئی شخص مان سکتا ہے کہ ایک طرف تو یہ لوگ کامل آزادی