انوارالعلوم (جلد 12) — Page 193
۱۹۳ سے مستعفی ہو جاؤں لیکن بعض معززین کا بیان ہے کہ جب انہوں نے میر واعظ صاحب سے پوچھا کہ اگر موجودہ صدر استعفاء دے دیں تو کیا آپ مسٹر عبداللہ صاحب سے مل کر کام کرنے لگ جائیں گے اور ان کی تائید کرنے لگیں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں میں ایسا پھر بھی نہیں کروں گا- اس پر ان معززین نے کہا کہ اگر صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اسعتفاء کی غرض اتحاد پیدا کرنا ہے تو اتحاد تو اس صورت میں بھی نہ ہوا- پھر ہم خواہ مخواہ کیوں کوشش کریں کہ وہ استعفاء دیں- غرض یہ کہ ریاست کے بعض حکام نے پورا زور لگایا کہ مذہبی فرقہ بندی کا سوال اٹھا کر مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں- لیکن مسٹر عبداللہ کی دور اندیشی اور اہل کشمیر کی وہ طبعی ذہانت جو انہیں اللہ تعالیٰ نے عطا کر رکھی ہے ان کے منشاء کے راستہ میں روک بن گئی اور اہل کشمیر نے صاف کہہ دیا کہ وہ اس سیاسی سوال میں مذہبی تفرقہ پیدا نہیں ہونے دیں گے- فالحمدللہ ثم الحمدللہ ان حالات کے بیان کرنے سے میری غرض یہ ہے کہ آپ لوگ پوری طرح ان کوششوں سے آگاہ رہیں جو ریاست آپ کے کام کو نقصان پہنچانے کیلئے کر رہی ہے- اور آئندہ بھی کرے گی اور اس کے ایجنٹوں کے دھوکا میں آ کر غصہ کی حالت میں کوئی فساد نہ کر بیٹھیں یا فرقہ بندی کے سوال کو سیاسی مسائل میں داخل نہ کرلیں- اے بھائیو! اس میں کوئی شک نہیں کہ مسٹر عبداللہ جیسے لیڈر کے بلاوجہ گرفتار کئے جانے پر جنہوں نے اپنی زندگی اپنے پیارے وطن اور اپنے پیارے وطنی بھائیوں کی خدمت کیلئے وقف کر چھوڑی تھی‘ آپ لوگوں کو جس قدر بھی غصہ ہو کم ہے- میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے اکثر اس جگہ خون بہانے کے لئے تیار ہیں جہاں مسٹر عبداللہ کا پسینہ گرے لیکن آپ لوگوں کو یہ بات نہیں بھلانی چاہئے کہ مسٹر عبداللہ سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کے کام کو جاری رکھا جائے- پس آپ لوگ ریاست کے اس ظلم کا جواب جو انہوں نے مسٹر عبداللہ صاحب‘ مفتی ضیاء الدین صاحب اور دیگر لیڈران کشمیر کو گرفتار یا جلاوطن کر کے کیا ہے یہ دیں کہ اس تحریک کو کامیاب کرنے کے لئے جو مسٹر عبداللہ نے شروع کر رکھی تھی‘ پہلے سے بھی زیادہ مستعد ہو جائیں- نیز جو مطالبات انہوں نے پیش کئے تھے‘ ان پر آپ لوگ اڑے رہیں اور جو شخص ان مطالبات کے خلاف کہے خواہ آپ کا ظاہر میں دوست بن کر