انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 121

۱۲۱ کرنا پسند نہیں کرتے- اس کے بعد ‘’کشمیرڈے’‘ کی تحریک ہوئی اور لاہور سے مجھے اطلاع ملی کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ چونکہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صدر احمدیہ جماعت کا امام ہے اس لئے ہم اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار نہیں- قطع نظر اس سے کہ یہ سوال درست تھا یا نہیں مجھے جب یہ بات پہنچی تو میں نے فیصلہ کیا کہ ہمارا مقصد کشمیر کے لوگوں کی حالت کو درست کرنا ہے اور ان جھگڑوں میں پڑنا نہیں اس لئے میں نے تین خط لکھے ایک ڈاکٹر سر محمداقبال صاحب کو دوسرا مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کو اور تیسرا مولوی غلام رسول صاحب مہر کو کہ اگر احرار کی مجلس کا یہی اعتراض ہے کہ میں صدر ہوں تو آپ انہیں تیار کریں کہ وہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممبر ہو جائیں اور مسلمانوں کی کثرت رائے کے ماتحت چلنے کا اقرار کریں اگر وہ اس امر کے لئے تیار ہوں تو میں فوراً مستعفیٰ ہو جاؤں گا بلکہ بعض صاحبان کو تو میں نے یہ بھی لکھا کہ اس صورت میں وہ میرے اس خط کو ہی استعفیٰ سمجھ لیں- مجھے ان خطوط کے جو جواب آئے ہیں ان میں سے دو کا تو میں ذکر نہیں کرتا کہ شاید ان کے لکھنے والے سمجھیں ہمارے دوستوں سے ہمیں لڑوایا گیا ہے لیکن ایک کا جواب میں بیان کر دیتا ہوں- جو خط میں نے ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کو لکھا تھا وہ انہوں نے سید محسن شاہ صاحب کو دیا تا ان لوگوں کو دکھائیں- جب انہوں نے یہ خط ان کے پیش کیا تو انہوں نے کہا اس کمیٹی کو کس نے نمائندہ بنایا ہے کہ اس کی اتباع کریں- ہم تو الگ کام کریں گے حالانکہ یہ اعتراض ان کا درست نہ تھا- اس کمیٹی کو آل مسلم پارٹیز کانفرنس نے اپنی شاخ قرار دیا ہے- اور آل مسلم پارٹیز کانفرنس وہ ہے جس کے ممبر تمام کونسلوں کے منتخب شدہ‘ ممبر اسمبلی کے منتخب شدہ ممبر اور کونسل آف سٹیٹ کے منتخب شدہ ممبر ہیں- اس کے علاوہ اس میں بیس ممبر مسلم لیگ کے‘ بیس جمیعہ العلماء کے‘ بیس خلافت کمیٹی کے اور تیس ہندوستان کے عام شہرت رکھنے والے لیڈر ہیں- سوچنا چاہئے کہ اگر یہ مجلس بھی نمائندہ نہیں تو اور کون ہوگی- اس میں ہر خیال کے لوگ ہیں- پھر سارے کے سارے انتخاب کے ماتحت ممبر بنتے ہیں- یوں نہیں کوئی خود بخود ہی لیڈر بن جائے- ایک چمار کو بھی اگر کوئی جماعت منتخب کر دے تو وہ اس کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے- اس میں سیالکوٹ کے بھی منتخب شدہ نمائندے ہیں- دیہاتی حلقہ کی طرف سے چوہدری ظفراللہ خاں صاحب اور شہری حلقہ کی طرف سے شیخ دین محمد صاحب- اور جب تمام مسلمانوں کے منتخب شدہ نمائندے جو فیصلہ کریں وہ اکثریت کا فیصلہ نہیں کہلا سکتا تو کیا پندرہ