انوارالعلوم (جلد 12) — Page 122
۱۲۲ لوگوں کی اس کمیٹی کا جو ایک گھر میں بیٹھ کر بنا ئی گئی ہو اکثریت کا فیصلہ کہلائے گا- پس یہ اعتراض قطعی طور پر حقیقت سے دور ہے کہ وہ میری وجہ سے شامل نہیں ہوئے- یہ دیکھ کر کہ وہ کسی طرح بھی اس کمیٹی میں شامل نہیں ہوتے نیز بعض اور باتوں سے جو ان سے تعلق رکھنے والوں نے بیان کیں‘ یہ نتیجہ نکالنا پڑتا ہے کہ ان کی اصل غرض کچھ اور ہے- اور چونکہ عوام احمدیوں کے خلاف بھڑک اٹھتے ہیں اس لئے نشانہ ہم کو بنا لیا ہے- لیکن جوش کی باتیں عارضی ہوتی ہیں- دنیا میں جو شخص کام کرنے کے لئے کھڑا ہو آج جو اسے پتھر مارتے ہیں کل کو ضرور وہی اس پر پھول برسائیں گے- جون آف آرک ایک فرانسیسی عورت تھی جس نے اپنے ملک کو آزاد کرایا تھا- اس کو اپنے زمانہ میں اس قدر تکلیف دی گئی کہ خود اس کے ابنائے وطن نے اسے پکڑ کر انگریزوں کے حوالہ کر دیا اور انگریزوں نے اس کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ آگ میں زندہ ڈال کر اسے جلا دیا جائے- لیکن آج وہ ولیہ سمجھی جاتی ہے حالانکہ اس کا کام روحانی نہیں بلکہ جسمانی تھا- تو جو لوگ دوسروں کی خاطر پتھر کھاتے ہیں ان پر ضرور پھول برستے ہیں- یہ جو پتھر آج پھینکے گئے ہیں ان کے کھانے کی ہم میں اہلیت نہیں- یہ خدا تعالیٰ نے اس لئے پھینکوائے ہیں کہ کل کو پھول بن کر ہمیں لگیں- ان سے سمجھ لینا چاہئے کہ کشمیر آزاد ہو گیا- حضرت عمرؓ کے زمانہ میں مسلمانوں کی ایران سے جنگ ہو رہی تھی- کسریٰ نے ان کا ایک وفد بلایا کہ آ کر بتائے مسلمان کیا چاہتے ہیں- چنانچہ صحابہ کا ایک وفد گیا- کسریٰ نے اس سے باتیں کیں اور کہا تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو- تم وحشی اور جاہل ہو اور نہیں جانتے کہ میں تمہیں پیس ڈالوں گا- مسلمانوں کے رئیس وفد نے جواب دیا بے شک ہم لوگ ایسے ہی تھے مگر خدا تعالیٰ نے ہم میں ایک نبی مبعوث کیا جس نے ہماری حالت کو بدل دیا- باتوں ہی باتوں میں کسریٰ کو طیش آ گیا اور اس نے کہا یہ شخص گدھا ہے- مٹی کا ایک بورا لا کر اس پر رکھ دیا جائے- چنانچہ بورا لایا گیا- دوسرے صحابی منتظر تھے کہ وہ آگے سے ہٹ جائیں گے لیکن وہ نہایت اطمینان سے کھڑے رہے اور مٹی کا بورا لا کر ان کے کندھوں پر رکھ دیا گیا- اس پر انہوں نے چلا کر کہا کہ کسریٰ نے ایران کی زمین اپنے ہاتھوں سے ہمارے سپرد کر دی اور وہ بورا اٹھائے ہوئے دربار سے نکل گئے- مشرک چونکہ بزدل ہوتا ہے- کسریٰ کانپ اٹھا اور گھبرا کر آدمی بھیجے کہ مٹی ان سے چھین لائیں- لیکن وہ صحابی اور ان کے ساتھ گھوڑوں پر سوار ہو کر بھاگ چکے تھے-۴؎ اسی طرح میں کہتا ہوں یہ پتھر بھی جن لوگوں نے مارے ہیں انہوں نے اپنی