انوارالعلوم (جلد 12) — Page 120
۱۲۰ ایسا کرتا انہوں نے کہا درست ہے اس نے کہا تو پھر آپ میری مدد کریں کہ اسے سزا دوں- پھر دونوں کی مدد سے اس عام آدمی کو اس نے خوب مارا اور ایک درخت کے ساتھ باندھ دیا- اس کے بعد اس نے سید صاحب سے کہا آپ کا تو حق تھا مگر اس عالم نے ایسا کیوں کیا- سید نے پھر اس کی ہاں میں ہاں ملائی تو اس نے کہا- آپ اسے سزا دینے میں میری مدد کریں- چنانچہ اس کی مدد سے مولوی کو بھی خوب اچھی طرح پیٹ کر درخت کے ساتھ باندھ دیا- پھر سید صاحب اکیلے ہی رہ گئے انہیں بھی اچھی طرح مارا اور درخت سے باندھ دیا- تو یہ تدبیر عام سیاست دان استعمال کرتے ہیں اور اسی اصل کے ماتحت تفرقہ اندازی ہم میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی اور پورا زور لگایا جائے گا کہ کسی طرح مسلمانوں میں لڑائی ہو- میں نے چاہا تھا کہ کشمیر کے سوال میں کوئی تفرقہ پیدا نہ ہو لیکن افسوس کہ میں اس میں کامیاب نہیں ہو سکا- جس وقت آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا پہلا اجلاس شملہ میں منعقد ہوا تو جو ممبر اس وقت موجود تھے اور جن میں ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب اور خواجہ حسن نظامی صاحب اور خان بہادر شیخ رحیم بخش صاحب بھی تھے اس وقت تجویز کی گئی کہ اس کمیٹی کو آل انڈیا حیثیت دینی چاہئے اور صدر کو اختیار دیا جائے کہ وہ اور ممبروں کو کمیٹی میں شامل کریں- اس اختیار سے کام لے کر پہلا کام جو میں نے کیا یہ تھا کہ مظہر علی صاحب اظہر اور چوہدری افضل حق صاحب کو خطوط لکھوائے کہ مجھے امید ہے آپ اس میں شامل ہو کر ہمارا ہاتھ بٹائیں گے اور نہ صرف خطوط لکھوائے بلکہ ان کے ایک دوست مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی سے کہ جن کے بھائی ان لوگوں کے صدر ہیں اور جو خود کانگریسی خیالات کے ہیں وعدہ لیا کہ وہ ان لوگوں سے مل کر انہیں مجبور کریں کہ اس میں شامل ہو جائیں- میرا منشاء یہ تھا کہ اس کمیٹی میں کانگریس کے موید مسلمانوں کی بھی نمائندگی ہو اور سب جماعتیں مل کر کام کریں- احمدیہ جماعت کے متعلق میں نے یہ احتیاط کی کہ سوائے ایک صاحب کے جو لاہور کی جماعت سے تعلق رکھتے تھے اور اس جماعت کی بھی نمائندگی ضروری تھی ایک احمدی بھی اس کمیٹی کا ممبر نہیں بنایا تا یہ الزام نہ ہو کہ اپنے آدمی بھر لئے گئے بلکہ ملک کے بہترین اور مشہور لوگوں کو دعوت دی لیکن افسوس کہ باوجود میری اس کوشش کے مظہر علی صاحب اظہر اور چوہدری افضل حق صاحب نے ہماری دعوت کا جواب تک نہیں دیا- ہاں ہمیں دوسرے ذرائع سے معلوم ہوا کہ ان کا جواب یہی تھا کہ ہم ان کے ساتھ مل کر کام