انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 52

۵۲ موافق کرو’‘- ۱۵؎ غرض اس قسم کی استثنائی صورتوں کو چھوڑ کر جب خود دوسری قوم کی اصلاح کیلئے الزامی جواب دینا پڑے سلسلہ احمدیہ کی تعلیم ہے کہ صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرو دوسرے مذاہب پر حملے نہ کرو تا کہ دنیا میں صلح اور آشتی قائم ہو اور لوگ اپنے رب کی طرف توجہ کرنے کا موقع پائیں- ۱۰- سلسلہ احمدیہ کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ شریعت بطور سزا کے نہیں نازل ہوئی کیونکہ شریعت نام ہے ان احکام کا جو انسان کی روحانی‘ تمدنی اور اخلاقی ترقی کا موجب ہوتے ہیں اور بالواسطہ طور پر اس کی ترقی کا بھی باعث ہوتے ہیں اور کسی کو وہ راہ بتانا جس پر چل کر وہ کامیاب ہو سکے کسی صورت میں بھی چٹی نہیں کہلا سکتا- ہم جب ایک بھولے ہوئے کو راہ دکھاتے ہیں تو وہ ہمارا ممنون ہوتا ہے یہ نہیں کہا کرتا کہ تم نے مجھ پر بوجھ لاد دیا ہے- ایک جہاز کا کپتان جسے سمندروں کا چارٹ مل جاتا ہے شکوہ نہیں کرتا بلکہ شکریہ ادا کرتا ہے- شریعت بھی درحقیقت انسانی سفر کیلئے ایک چارٹ ہے جس سے اسے راستہ کی مشکلات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور آسانی سے سفر طے کرنے کے طریق بتائے جاتے ہیں- وہ ایک گائیڈ ہے جو ہر منزل پر اس کے کام آتا ہے نہ کہ چٹی اور سزا- پس اس کی ضرورت ہر وقت انسان کو تھی اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی اور اللہ تعالیٰ نے اسے بطور سزا نہیں نازل کیا بلکہ بطور احسان نازل کیا ہے اور اس سے زیادہ بدبختی کا دن انسان کیلئے نہیں آ سکتا جس دن کہ وہ اس راہنما سے محروم ہو جائے- مگر اللہ تعالیٰ جو رحیم و کریم ہے کبھی برداشت نہیں کر سکتا کہ اپنے بندوں کو جو ابدی زندگی کیلئے سرگردان ہیں اس ضروری امداد سے محروم کر کے ہمیشہ کیلئے تاریکی اور ظلمت میں بھٹکتا رہنے دے- ۱۱- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جس طرح ہر انسان کا پیدائشی حق ہے کہ اس کیلئے خدا تعالیٰ کے قرب کا دروازہ کھلا رہے اور اس کے اور اس کے رب کے درمیان کوئی اور ہستی حائل نہ ہو اسی طرح ہر انسان اپنی نجات کیلئے اپنی ہی جدوجہد کا محتاج ہے کوئی دوسرا شخص اس کی نجات کے معاملہ میں سوائے راہنمائی اور ہدایت کے اور کسی کام نہیں آ سکتا- ہر انسان کا فرض ہے کہ اپنے لئے نجات کا راستہ خود تیار کرے جیسا کہ مسیح علیہ السلام نے نہایت خوبصورت الفاظ میں فرمایا ہے-