انوارالعلوم (جلد 12) — Page 53
۵۳ ’’اگر کوئی چاہے کہ میرے پیچھے آوے تو اپناانکار کرے اور اپنی صلیب اٹھا کے میری پیروی کرے‘‘-۱۶؎ حق بھی یہی ہے کہ نجات اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو انسان کا ایمان اور اس کی وہ جدوجہد ہی کھینچ سکتی ہے جو وہ خدا سا بننے کیلئے کرتا ہے کیونکہ تب خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ دیکھو میرا بندہ مجھ سے ملنے کی کوشش کر رہا ہے پھر میں کیونکر خاموش رہوں اور اس کی امداد کیلئے ہاتھ نہ بڑھاؤں- پھر وہ ہاتھ بڑھاتا ہے اور اپنے بندے کو اٹھا لیتا ہے جس طرح روتے ہوئے بچے کو ماں اٹھاتی ہے وہ اپنے بچے کو اٹھانے کیلئے کسی کی سفارش کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ سب سے بڑی سفارش اس کے بچے کی صحیح خواہش یا اس کی چیخ ہی ہوتی ہے- ۱۲- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ انسان اپنے اعمال میں نہ تو کلی طور پر آزاد ہے اور نہ کلی طور پر مجبور- بلکہ وہ اس حد تک مجبور ہے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر سے آزاد نہیں ہو سکتا اور اس حد تک آزاد ہے کہ اپنے اعمال کی جزاء سزا کا مستحق ہے- خدا تعالیٰ کسی کو بد اور کسی کو نیک نہیں قرار دیتا بلکہ وہ اعمال کا زمانہ شروع ہونے سے پہلے ہدایت کرتا ہے اور اس زمانہ کے شروع ہو جانے پر ہدایت کرتا اور اعمال کے نتائج پیدا کرتا ہے- پس دنیا میں ہر واقعہ جو تقدیر کے ماتحت نظر آتا ہے درحقیقت کسی اختیاری فعل کے نتیجہ میں ہے اور ہر واقعہ جس میں انسان کلی طور پر مختار نظر آتا ہے وہ درحقیقت قانون قدرت‘ انسان کے پہلے اعمال اور اس کے گردو پیش کے حالات سے متاثر ہوتا ہے اسی وجہ سے ابتدائے دنیا سے مختلف مذاہب اور مختلف فلسفی اس امر پر بحث کرتے چلے آئے ہیں کہ آیا انسان مجبور ہے یا مختار- اور تقدیر کے سوال نے انسان کو حیران کئے رکھا ہے- لیکن اگر لوگ اسلام کی تعلیم کو مدنظر رکھتے تو یہ جھگڑے پیدا ہی نہ ہوتے اور اگر ہوتے تو بہت جلد ختم ہو جاتے- اس میں کیا شک ہے کہ انسان اپنے اعمال پر ایک سرسری نگاہ بھی ڈالے تو اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اس کے افعال میں تقدیر و اختیار کے قانون ایک ہی وقت میں جاری ہیں- بظاہر یہ مسئلہ ایک علمی مسئلہ نظر آتا ہے لیکن درحقیقت بہت اہم اور عملی مسئلہ ہے اور دنیا کی روحانی اور تمدنی ترقی کا اس پر بہت کچھ مدار ہے اور یہ مسئلہ خدا تعالیٰ کے وجود پر بھی دلالت کرتا ہے کیونکہ انسانی اختیار اور اس کی مجبوریاں ایسی ملی ہوئی ہیں کہ سوائے ایک ایسی