انوارالعلوم (جلد 12) — Page 51
۵۱ غرض سلسلہ احمدیہ کی تعلیم ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں اللہ تعالیٰ کے نبی گذرے ہیں اور اس وجہ سے ہمارا فرض ہے کہ ہم دوسری قوموں کے گزشتہ بزرگوں کو بھی محبت اور قدر کی نگاہ سے دیکھیں کیونکہ وہ سب خدا کی طرف سے تھے اور اس وجہ سے ہمارے لئے واجب ادب ہیں- پس ہم لوگ جو سلسلہ احمدیہ کے پیرو ہیں جس طرح حضرت نوح اور حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح علیھم السلام کو ادب و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اسی طرح کرشنجی اور رام چندر جی اور گوتم بدھ اور زرتشت اور کنفیوشس علیھم السلام کو بھی عزتواحترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یورایکسیلنسی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ تعلیم دنیا میں امن و امان کے قائم کرنے میں کس قدر مدد دے سکتی ہے اور ایک عظیم الشان سچائی کا اقرار کروا کے ہمیں سچائی کے کس قدر قریب کر دیتی ہے- اور ان قوموں کے دلوں کو جو یہ سمجھتی تھیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں چھوڑے رکھا ہے کس قدر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے- ۹- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ دوسرے مذاہب کے عیب بیان کرنے کی بجائے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنی چاہئیں کیونکہ کسی کی کمزوری سے ہماری بڑائی ثابت نہیں ہوتی بلکہ ہماری تعلیم کی برتری ہی ہمارے مذہب کی برتری ثابت کر سکتی ہے- پس دوسرے مذاہب کے عیب بیان کرنا ہماری جماعت کا طریق نہیں- ہاں جوابی طور پر جب ہم کو یہ معلوم ہو کہ ایک قوم برابر بد گوئی میں بڑھتی جاتی ہے دفاع کے طور پر ہمیں الزامی جوابوں کے دینے کی اجازت دی گئی ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ یہ تعلیم دنیا میں امن قائم رکھنے کیلئے اور قوموں میں صلح کرانے کیلئے نہایت ممد ہے- اور اس کا دوسرا پہلو کہ اگر کوئی قوم شرارت سے باز نہ آئے تو اس کے مقابل میں الزامیجواب دینا درست ہے درحقیقت پہلے پہلو کو مکمل کرتا ہے- کیونکہ بعض انسان اس قدر خدا تعالیٰ سے دور ہو جاتے ہیں کہ ان کے انسانی احساسات کو اکسانے کیلئے ایک ٹھیس کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح کہ کبھی جسم انسانی کی حفاظت کیلئے ڈاکٹر کے نشتر کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ طریق قابل اعتراض نہیں بلکہ بگڑی ہوئی قوم کی خیر خواہی میں داخل ہے- چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی باوجود اس کے کہ آپ کی طبیعت نہایت حلیم تھی کبھی کبھی یہ طریق اختیار کرنا پڑا جیسا کہ فریسیوں کے حد سے بڑھ جانے پر آپ کو کہنا پڑا کہ:۔‘’تم اپنے باپ شیطان سے ہو اور چاہتے ہو کہ اپنے باپ کی خواہش کے