انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 483

۴۸۳ ملتا- اگر آپس میں اتحاد نہ ہوا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کسٹمز وغیرہ کے سوال میں برطانوی ہند ریاستوں کی خواہشات اور ضروریات کی پرواہ نہیں کرے گا اور اس سے انہیں بہت مالی نقصان پہنچے گا- (۳) ریلوں وغیرہ کے معاملہ میں بوجہ پراگندہ ہونے کے برطانوی ہند ریاستوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے- برطانوی ہند کو صرف ایک ریل کی مشکل ہے ورنہ وہ بالکل آزاد ہے اور بالمقابل ریلیں جاری کر کے اور ریاستوں کی ریلوں سے تعلق قطع کر کے وہ انہیں سخت نقصان پہنچا سکتا ہے- غرض ریاستوں کا جائے وقوع ایسا ہے کہ بغیر ہندوستان کی فیڈریشن میں داخل ہونے کے ان کے لئے سخت مشکلات ہوں گی- لیکن اس کے مقابلہ میں دوسری طرف بھی مشکلات ہیں ریاستوں کے لئے بھی اور برطانوی ہند کے لئے بھی- ریاستوں کے لئے تو یہ دقت ہے کہ فیڈریشن میں شامل ہونے سے انہیں اور ان معاملات میں اپنے حق کو چھوڑنا پڑے گا جو مرکزی ہوں گے- دوسرے ان کے طے کرنے میں انہیں زیادہ سے زیادہ اپنی رعایا کی آبادی کے برابر اپنی آواز کی قیمت تسلیم کرنی ہو گی- اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں نہ تو وہ اس امر کے لئے تیار ہیں کہ مرکزی امور میں وہ ہندوستانی مجالس کے قانونوں کو تسلیم کر لیں اور نہ وہ اس امر کے لئے تیار ہیں کہ ایک چوتھائی نمائندگی حاصل کریں- برطانوی ہند کے راستہ میں بھی ان کے شامل ہونے سے مشکلات ہیں- اول یہ کہ ریاستوں کی نمائندگی کس طرح پر اور کس مجلس میں ہو گی؟ اگر تو ان کے نمائندوں کا انتخاب پبلک کرے گی تو یہ ناممکن ہو گا کیونکہ اکثر ریاستیں ایسی ہیں کہ ان کی رعایا اتنی نہیں کہ آبادی کی بناء پر اپنا نمائندہ منتخب کر سکے اور یہ بھی ناممکن ہے کہ مختلف ریاستوں کی آبادی مل کر اپنے نمائندوں کا انتخاب کرے کیونکہ بہت سی ریاستیں بالکل پراگندہ ہیں- دوسرے ابھی والیانریاست بھی اس امر کو تسلیم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے کہ تمام اہم امور ان کی رعایا کے نمائندے طے کر آئیں اور ان کا اس مشورہ میں دخل ہی نہ ہو- دوسری صورت اب یہ رہ جاتی ہے کہ ریاستوں کے نمائندے والیان ریاست کی طرف سے مقرر ہوں اور والیان ریاست غالباً سردست اس کے بغیر اور کوئی صورت مانیں گے بھی نہیں- لیکن اس صورت کو برطانوی ہند کبھی قبول نہیں کر سکتا کہ دو تین سو ووٹر مل کر ایک