انوارالعلوم (جلد 11) — Page 482
۴۸۲ جب ان کے چاروں طرف انسانیت آزادی سے متمتع ہو رہی ہو گی وہ اپنی رعایا کو اس تحریک سے غافل نہیں رکھ سکتے- اور ہندوستان کے نو آبادیوں والی حکومت کے حاصل کر لینے کے بعد وہ یہ امید نہیں کر سکتے کہ برطانیہ اس خواہش کے دبانے میں ان کی کچھ زیادہ مدد کرے گا- پس جو واقعات کل سختی سے پیش آنے والے ہیں ان کا احساس آج ہی کر کے ان کی سختی کو کم کر دینا چاہئے- میسور اور بعض دوسری جنوبی ہند کی ریاستیں اس طرف قدم اٹھا رہی ہیں پس اگر دوسری ریاستیں بھی ان کے نقش قدم پر چلیں تو انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اس سے ان کو یہ بھی فائدہ ہو گا کہ پولیٹیکل افسر جو ان کے کاموں میں روزانہ دخل دیتے ہیں دخل نہیں دے سکیں گے کیونکہ آئینی حکومت میں بہت سے امور تمام ملک کے مشورہ سے طے ہوتے ہیں اور ایگزیکٹو کو دبانا آسان ہے لیکن ملک کی رائے کو دبانا آسان نہیں- اور ایسی حکومت جو ملک سے مشورہ لے کر کام کرتی ہو اسے کوئی کہہ بھی کیا سکتا ہے کیونکہ وہ حکومت ہر تجویز پر عمل کرنے سے پہلے مجبور ہوتی ہے کہ ملک کے نمائندوں سے مشورہ لے لے پس اگر پولیٹیکل افسر اس حکومت سے کوئی کام لینا چاہے گا تو وہ حکومت مجبور ہو گی کہ اس کے مشورہ کو ملک کے نمائندوں کے سامنے پیش کرے اور یہ بہت مشکل ہے کہ کوئی پولیٹیکل افسر اس کی برداشت کرے کہ اس کی ہدایت کو مجلس قانون ساز کے سامنے رکھ دیا جائے- مگر بہرحال یہ معاملہ ریاستوں کا ہے اور اس میں ہم صرف مشورہ دے سکتے ہیں- ہمارا تعلق تو اس وقت اس امر سے ہے کہ کیا ریاستیں ہندوستان کی اتحادی حکومت میں شامل ہو سکتی ہیں؟ میرا جواب افسوس کے ساتھ یہ ہے کہ موجودہ حالت میں نہیں- ہاں مجھے یقین ہے کہ اگر ریاستیں ہندوستان فیڈرل سسٹم میں شامل نہیں ہوں گی تو انہیں سخت نقصان پہنچے گا- کیونکہ-: (۱) ریاستوں کا علاقہ بالکل پراگندہ ہے پھر سب ریاستیں ایک جیسی طاقتور نہیں- کوئی کمزور ہے تو کوئی طاقتور- پس اگر کسی وقت برطانوی ہند اور ریاستوں میں رقابت پیدا ہوئی تو ریاستیں کسی صورت میں برطانوی ہند کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی اور برطانیہ ہندوستان کو آزادی دینے کے بعد کسی صورت میں بھی اس جنگ میں دخل نہیں دے گا اور نہیں دے سکے گا کیونکہ یہ جنگ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اقتصادی تدابیر سے ہو گی- (۲) ریاستوں میں سے صرف چند ساحل سمندر پر ہیں اور ان کا علاقہ باقی ریاستوں سے نہیں