انوارالعلوم (جلد 11) — Page 484
۴۸۴ چوتھائی ممبروں کو نامزد کریں- کیونکہ اول تو منتخب مجالس میں نامزد ممبروں کی جگہ ہی نہیں ہوتی لیکن اگر اس کی برداشت بھی کر لی جائے تب بھی کسی مجلس کے ایک چوتھائی ممبروں کا چند افراد کا نمائندہ ہونا اور ان کے حکم کے ماتحت ہونا اصول سیاست کے خلاف ہے اور اس سے وہ مجالس ہرگز آزاد مجالس نہیں کہلا سکتیں اور ان کی آزادی بالکل وہمی ہو جاتی ہے- نیز منتخب شدہ ممبر گو ووٹروں کی مرضی کا لحاظ کرتا ہے لیکن وہ ان کا نوکر نہیں ہوتا اور نہ ہر بات میں ان کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے لیکن ریاستوں کے نمائندے ان کے ملازم اور ہر امر میں ان کے سامنے جواب دہ ہوں گے- پس وہ لوگ ووٹنگ مشینیں تو ہوں گے لیکن ایک منتخب مجلس قانون ساز کے ممبر کہلانے کے مستحق نہ ہوں گے اور مجلس کا توازن بالکل خراب کر دیں گے- علاوہ ازیں برطانوی ہند کا جائز طور پر خوف ہو گا کہ ریاستوں کے نمائندے درحقیقت برطانوی ہند کے نمائندے ہوں گے اور ان کی مدد سے ایک نیا آفیشل بلاک (OFFICIAL BLOCK)بن جائے گا کیونکہ جب تک ریاستیں پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ (POLITICAL DEPARTMENT)کے ماتحت ہیں وہ اس کے اشارہ پر چلنے کے لئے مجبور ہیں- پس اگر برطانیہ نے ان کے نمائندوں کوہندوستانیوں کے مفاد کے خلاف آفیشل بلاک کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا تو ہندوستانی گویا ایک مصیبت سے نکل کر دوسری مصیبت میں جا پڑیں گے- پھر یہ بھی سوال حل طلب ہے کہ ریاستیں اگر شامل ہوں تو کس مجلس میں؟ اگر کہو کہ اسمبلی میں تو اسمبلی افراد کی نمائندہ ہے نہ کہ علاقوں کی- پھر اسمبلی میں بجٹ وغیرہ بھی پاس ہوتے ہیں جن کے ساتھ ریاستوں کا کوئی تعلق نہ ہو گا- اگر کونسل آف سٹیٹ میں نمائندگی رکھی جائے تو ریاستوں کو قدرتاً اعتراض ہو گا کہ ان کو اس کونسل میں جگہ دی گئی ہے جس کے اختیارات محدود ہیں اور اس طرح ان کی رائے پر حد بندیاں لگا دی گئی ہیں- پس بوجہ اس کے کہ ان سے مشورہ پوری طرح نہیں لیا گیا وہ مرکزی مجلسوں کے فیصلوں کے پابند نہیں ہو سکتے- پھر ایک اور دقت برطانوی ہندوستان کے لئے پیش آئے گی اور وہ یہ ہے کہ کونسل آف سٹیٹ کو بہر حال علاقوں کا قائم مقام رکھنا ہو گا لیکن اگر ریاستیں اس میں شامل ہوئیں تو صوبوں کا توازن خراب ہو جائے گا اور قانون اساسی بالکل خطرہ میں پڑ جائے گا کیونکہ صوبوں کے حقوق