انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 321

۳۲۱ مجبور ہیں کہ حفاظتی قانون کے ذریعہ سے ناجائز طرفداری والے قانونوں کا ازالہ نہ کریں’‘- ۳۹؎ ان اعتراضات کو بیان کر کے کمیشن کہتا ہے کہ-: ‘’پس حفاظت کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ دخل اندازی کا اختیار گورنر جنرل اور صوبہ جات کے گورنروں کے ہاتھ میں اس غرض کیلئے قائم رکھا جائے اور انہیں جو ہدایات اپنے کام کو صحیح طور پر چلانے کے لئے دی جائیں ان میں یہ واضح کر دیا جائے کہ تمام مناسب موقعوں پر وہ اسی طاقت کو استعمال کریں’‘- میں یہ تو ثابت کر چکا ہوں کہ یہ ذریعہ بھی کوئی ذریعہ نہیں- نہ تو اس سے اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ہو سکتی ہے اور نہ ہی گورنر کی پوزیشن ہی آئینی طور پر مضبوط رہتی ہے اور علاوہ ازیں اس طریق کے اختیار کرنے سے صوبہ جات کی آزادی بھی خطرہ میں پڑ جاتی ہے- پس میں صرف ان اعتراضات کا جواب دیتا ہوں جو کمیشن نے حفاظتی تدابیر کو آئین اساسی میں لانے کے متعلق کئے ہیں-: (۱) کمیشن کہتا ہے کہ چونکہ مختلف اقلیتوں میں امتیاز نہیں کیا جا سکتا اس لئے ہندوستان میں مختلف اقلیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون بنانا پڑے گا اور وہ قانون لازماً بالکل مبہم الفاظ میں ہوگا- کمیشن کے ممبروں نے یہ نہیں سوچا کہ اقلیتیں خواہ کس قدر ہوں وجوہ اختلاف بہت تھوڑے ہیں اور مشترک ہیں- قریباً وہی قانون مسلمانوں کے حق کی حفاظت کرے گا- جو مسیحیوں کے حق کی حفاظت کرے گا اور وہی ہندوؤں کے حق کی بھی کرے گا اور وہی سکھوں کے حق کی بھی کرے گا- مثلاً اگر آئین اساسی میں یہ دفعہ رکھ دی جائے کہ اپنی پرائیویٹ ملکیت کی جگہوں پر کسی قوم کو معبد بنانے سے نہیں روکا جائے گا تو اس کا فائدہ مسلمانوں کو ہی حاصل نہ ہوگا بلکہ مسیحیوں، انگریزوں، ہندوؤں، سکھوں اور پارسیوں سب کو ہوگا- یا مثلاً یہ دفعہ اس میں ہو کہ کوئی امتیازی قانون نہیں بنایا جائے گا تو اس کا فائدہ بھی سب فرقوں کو یکساں پہنچے گا- اسی طرح اگر یہ قانون ہو کہ تبلیغ سے کسی صورت میں نہیں روکا جائے گا نہ تبدیلی مذہب کے لئے کوئی حد بندی کی جائے گی- جیسے مثلاً مجسٹریٹ کی اجازت یا ایسی ہی کوئی شرط تو اس کا فائدہ بھی سب ہی اٹھائیں گے- غرض اکثر قوانین ایسے ہی ہونگے کہ کسی خاص اقلیت کی