انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 322

۳۲۲ خاطر نہیں بنائے جائیں گے بلکہ سب اقلیتوں کے مفاد ان میں مشترک ہونگے- پس یہ کہنا کہ ہر ایک اقلیت کے حقوق کی حفاظت کا ذکر چونکہ تفصیلاً نہیں ہو سکتا اس لئے مبہم الفاظ میں قوانین بنانے پڑیں گے درست نہیں- لیکن اگر یہ صحیح بھی ہو کہ الگ الگ قوانین بنانے پڑیں گے تو لاکھوں کروڑوں آدمیوں کے مذہب اور جان اور مال کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ چند دفعات کی زیادتی کے خوف سے اسے چھوڑ دیا جائے- میرا سب سے بڑا سوال اس کے متعلق یہ ہے کہ گورنر کو جو ہدایات دی جائیں گی وہ مبہم ہونگی یا مفصل؟ اگر مبہم ہونگی تو کیا کمیشن یہ یقین کرتا ہے کہ نو دس کروڑ افراد اقلیتوں کے ان مبہم ہدایات کی وجہ سے مطمئن ہو جائیں گے؟ اور اگر وہ ہدایات مفصل ہونگی تو جن الفاظ میں گورنر کو ہدایت دی جا سکتی ہے انہیں الفاظ کو کیوں آئین اساسی میں شامل نہیں کیا جا سکتا؟ مبہم الفاظ میں گورنر کو ہدایت دینی تو ایک ایسا فعل ہے جس سے کچھ بھی نفع نہیں پہنچ سکتا بلکہ مضرت کا احتمال ہے- غرض ابہام کا اعتراض ایسا نہیں جو صرف آئین اساسی پر وارد ہوتا ہو- یہ اعتراض اسی زور سے بلکہ اس سے زیادہ زور سے گورنر کو اختیارات دینے پر وارد ہوتا ہے- کل کو ممکن ہے کہ اقلیت پر ایک حملہ ہو اور گورنر کہہ دے کہ قانون اساسی میں اس کا ذکر نہیں- میرے نزدیک اکثریت کو حق ہے کہ اس بارے میں قانون بنائے تو اس صورت میں اقلیتیں کیا کر سکتی ہیں- گورنر کے اختیارات بھی تو تبھی نفع دے سکتے ہیں کہ جب قانون اساسی میں اقلیتوں کے حقوق کا تفصیلی ذکر ہو تا کہ ان کی بناء پر اقلیتیں مطالبہ کر سکیں اور ان کی روشنی میں گورنر فیصلہ کر سکے- پس گورنر کے ہاتھ میں اختیارات کا رکھنا ہمیں آئین اساسی کی تکمیل سے آزاد نہیں کر سکتا- گورنر کو زیادہ سے زیادہ سپریم کورٹ کا قائم مقام قرار دیا جا سکتا ہے لیکن جس طرح سپریم کورٹ کا قیام آئین اساسی کے مکمل ہونے کی ضرورت ثابت کرتا ہے نہ کہ اس کے غیر ضروری ہونے کی اسی طرح گورنروں کو اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ہدایت دینا ان حقوق کے بالتفصیل بیان کرنے کا متقاضی ہے نہ کہ اسے بغیر بیان کئے چھوڑ دینے کا- جب حقوق ہی بیان نہ ہونگے تو گورنر فیصلہ کس امر کا کرے گا- غرض یہ دلیل کمیشن کی بالکل کمزور اور بودی ہے- فیصلہ گورنر کے ہاتھ میں ہو یا کسی اور کے ہاتھ میں، یہ لازم ہے کہ ان امور کو کہ جنہیں اقلیتوں کی حفاظت کیلئے ضروری سمجھا جائے آئین اساسی میں بیان کر دیا جائے- یہ امر بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں کہ اگر آئین اساسی میں وہ امور بیان نہ ہونگے