انوارالعلوم (جلد 11) — Page 320
۳۲۰ جب تک گورنروں کو براہ راست دخل دینے کا اختیار رہے گا اس وقت تک صوبہ جات کو مکملآزادی حاصل نہیں ہو سکتی اور اگر اقلیتوں کی حفاظت کے لئے دخل دینے کی طاقت گورنروںکو دی گئی تو پھر وہ وقت نہ معلوم کب آئے گا جب کہ صوبہ جات پورے طور پر آزاد کہلا سکیں گے؟ کمیشن نے اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کو کانسٹی ٹیوشن (CONSTITUTION) میں شامل کرنے کے خلاف مندرجہ ذیل دلائل دیئے ہیں- ‘’مختلف اقلیتوں، مذاہب اور قوموں کے نمائندوں نے ہمارے سامنے زور دیا ہے کہ ہندوستانی مجلس قانون ساز کے اختیارات آئین اساسی میں اس طرح واضح کر دینے چاہئیں کہ وہ امتیازی قانون پاس نہ کر سکے اور اگر وہ ایسا کرے تو اس کا قانون ناجائز سمجھا جائے’‘- ‘’ہمیں یقین ہے کہ قانون کے ذریعہ سے حفاظت خاصخاص اقلیتوں کو نہیں دی جا سکے گی اور نہ ہی ایسا قانون پاس کیا جا سکتا ہے کہ جس سے صرف تجارت کے متعلق طرفداری والے قانون کی ممانعت کی جائے- اس وجہ سے اگر قانون میں حفاظتی تدابیر کا ذکر کیا گیا تو اس کے الفاظ ایسے وسیع بنانے ہوں گے کہ انسانی حقوق کے گنوانے سے زیادہ اس میں کچھ نہ ہو سکے گا اور ان الفاظ سے ان عدالتوں کو جنہیں یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا شکایت کنندہ گروہ اقلیت کہلا سکتا ہے؟ یا یہ کہ کیا وہ قانون جس کی شکایت کی گئی ہے واقعہ میں ناجائز طرفداری والا قانون ہے؟ کوئی امداد نہ ملے گی’‘- علاوہ ازیں یہ دیکھتے ہوئے کہ ہندوستان میں مقدمات جس طرح باریک در باریک باتیں نکال کر کئے جاتے ہیں اور انہیں خاص طور پر لمبا کیا جاتا ہے ہمیں اس امر کی امید رکھنی چاہئے کہ عدالتوں میں ایسے مقدمات لے جائے جایا کریں گے جن کا تصفیہ عدالتوں میں اچھی طرح نہیں ہو سکتا- ‘’یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر عدالت کو ایسے مقدمات میں فیصلہ کرنے کا اختیار ہو جن کی بناء حقیقی شکایات ہوں تو اس کا یہ بھی فرض ہے کہ ان مقدمات کو بھی وہ سنے جن کی بنیاد دور از قیاس امور پر رکھی گئی ہو اور جن کے چلانے کی کوئی بھی معقول وجہ موجود نہ ہو- پس ان مشکلات کو دیکھتے ہوئے ہم یہ فیصلہ کرنے پر