انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 202

۲۰۲ انجیل کسی معتبر ذریعہ سے پہنچی تھی تو الحاق کا زمانہ انیس سو سال تک کس طرح لمبا ہو گیا؟ معنوں کے فرق کو تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ پچھلوں نے معنی نہیں سمجھے ہم نے سمجھ لئے ہیں- لیکن ظاہر الفاظ کے متعلق ہم کس طرح تسلیم کر سکتے ہیں کہ پچھلوں نے ان کو داخل کر دیا اور اب موجودہ نسلوں نے انیس سو سال بعد حقیقت کو معلوم کر لیا- جو لوگ ان بابوں اور آیتوں پر عمل کرتے رہے ان کی زندگیاں تو برباد گئیں اور ان کا عرفان تو تباہ ہوا- وہ کتاب آسمانی جس میں دو ہزار سال تک زائد ابواب اور زائد آیات شامل رہیں- اس پر بنی نوع انسان کی کیا یقین کر سکتے ہیں؟ اور آئندہ کے لئے کیا اعتبار ہو سکتا ہے کہ کچھ اور ابواب خارج نہ کر دیئے جائیں؟ ممکن ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے کہ جس طرح بعض محققین کا خیال ہے کہ ساری انجیل میں صرف ‘’ایلی ایلی لما سبقتانی’‘ یعنی اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا- کا ایک فقرہ ہے جسے مسیح کے منہ سے نکلا ہوا کہا جا سکتا ہے- اس فقرہ کو انجیل قرار دے کر سب حصوں کو اڑا دیا جائے- مگر یہ ‘’چھوڑ دیا’‘ والا فقرہ ملانے کا موجب کب ہو سکتا ہے؟ غرض دوسرے سب مذاہب کی الہامی کتب ایسی مخدوش حالت میں ہیں کہ اس مقابلہ کی طرف آنے سے ان کے مبلغوں کی روح کانپتی ہے- اور یہی حال دوسری کلام کی خوبیوں کا ہے- اس وجہ سے کلام کے معجزہ کی طرف یہ لوگ کبھی نہیں آتے- حالانکہ کلام کا معجزہ دوسرے معجزوں سے زبردست ہوتا ہے کیونکہ اس کا ثبوت ہر وقت پیش کیا جا سکتا ہے- جب کہ دوسرے معجزات ایسے ہیں کہ روایات کے غبار میں غائب ہو جاتے ہیں- اور جب تک دوسرے شواہد ساتھ نہ ہوں سچے اور جھوٹے میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے- کلام کا معجزہ جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے، کئی شاخیں رکھتا ہے اور قرآن کریم کا معجزہ ان تمام شاخوں میں مکمل اور اکمل ہے- لیکن ایک اخبار کے مضمون میں اس قدر گنجائش نہیں ہو سکتی کہ ہر ایک بات بیان کر دی جائے- نہ ہر امر تفصیل سے بیان ہو سکتا ہے- اس لئے میں صرف اس معجزہ کے دو پہلوؤں کو اختصار سے بیان کرتا ہوں- اور چیلنج دیتا ہوں کہ اگر کوئی اور کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کی مدعی ہے تو اس کے پیرو اس معجزہ کے مقابلہ میں اسے پیش کریں اور دیکھیں کہ کیا ان کی کتاب ایک ذرہ بھر بھی اس کتاب کا مقابلہ کر سکتی ہے؟ پہلی مثال جو میں پیش کرنی چاہتا ہوں الفاظ قرآنیہ ہیں- قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا