انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 203

۲۰۳ ہے کہ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون ۲؎ ہم ہی نے اس ذکر کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں- یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جو چیز اپنی غرض کو پورا کر رہی ہوتی ہے ہم اس کی حفاظت کرتے ہیں- اور جب وہ اس غرض کو پورا کرنے سے جس کے لئے اسے بنایا یا اختیار کیا گیا تھا رہ جاتی ہے تو ہم اسے پھینک دیتے ہیں- پس اس میں کیا شک ہے کہ اگر کوئی کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو جب تک اس کی ضرورت دنیا میں ہو اس کی حفاظت ہونی چاہئے اور جب اس کی حفاظت بند ہو جائے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اب اس کی ضرورت دنیا میں با قی نہیں رہی اس لئے اسے پھینک دیا گیا ہے- قرآن کریم جس قوم میں نازل ہوا وہ علم سے خالی تھی- اس کے مقابلہ میں دوسری کتب سماویہ ایسی اقوام میں نازل ہوئیں کہ جن میں لکھنے پڑھنے کا کافی رواج موجود تھا- لیکن باوجود اس کے وہ کتب محفوظ نہ رہ سکیں- لیکن قرآن کریم اب تک اسی طرح موجود ہے جس طرح کہ وہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے وقت تھا اور یہ حفاظت اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ اس کے لئے خاص آسانیاں حاصل تھیں جو دوسری کتب کو حاصل نہیں تھیں- نہ یہ حفاظت اس وجہ سے ہے کہ اب تک اس کی تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا گیا- جس سے یہ امکان باقی رہ جائے کہ شاید جب اس کی تاریخ کا بھی مطالعہ کیا جائے تو اس کے نقائص معلوم ہو جائیں- کیونکہ ایک سو سال سے مسیحی مبشرین بائبل کی بدنامی دھونے کیلئے قرآن کریم کی تاریخ کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں اور اس قسم کی عرق ریزی سے کام لے رہے ہیں کہ اگر کسی شخص کو ان کی نسبت معلوم نہ ہو تو شاید وہ یہ خیال کرے کہ قرآن کریم کی محبت مسیحی مبشروں کو عام مسلمانوں سے زیادہ ہے- لیکن باوجود اس عرق ریزی کے وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ اس کی عبارت میں ایک لفظ بھی ایسا ثابت کر سکیں کہ جو زائد ہو اور اصل قرآن کریم میں نہ ہو- ہزاروں قوموں اور سینکڑوں ملکوں میں مسلمان بستے ہیں اور سب کے پاس قرآن کریم ہوتا ہے- لیکن آج تک ایک بھی ایسی مثال نہیں نکل سکی کہ قرآن کریم میں اختلاف ہو- ڈاکٹر منگانا نے اپنی طرف سے بڑی کوشش کر کے تین قدیم نسخے قرآن کریم کے تلاش کئے تھے لیکن ان کے بعض اوراق چھاپنے سے ان کی ایسی پردہ دری ہوئی کہ مزید اشاعت کا خیال ہی انہوں نے دل سے نکال دیا- کیونکہ ان کے شائع کردہ ورقوں سے ثابت ہو گیا کہ وہ کوئی صحیح