انوارالعلوم (جلد 11) — Page 201
۲۰۱ بعد کی ایسی بات بنا سکتا ہے جو اس کے اختیار میں نہ ہو- خلاصہ یہ کہ دشمنان اسلام اس معجزہ کو ہلکا کرنے کے دکھانے کے لئے اس قدر کوشش کرتے ہیں رہتے ہیں کہ خود وہ کوشش ہی اس امر کا ثبوت ہوتی ہے کہ قرآن کریم کے اس معجزہ کو وہ دل میں تسلیم کرتے ہیں- ورنہ اس قدر گھبراہٹ اور تشویش کی کیا ضرورت تھی؟ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے مقابلہ میں کوئی کتاب اپنی ذات میں معجزہ نہیں ہے- بلکہ اس کے نزول سے پہلے وہ بے شک اپنے زمانے کے لوگوں کے لئے معجزہ ہوں گی لیکن اس سورج کے طلوع کے بعد وہ ستاروں کی طرح مدہم پڑ گئیں- اب حال یہ ہے کہ جو قصے ان کتب میں پائے جاتے ہیں، ان کے ذریعہ سے تو وہ اسلام کا مقابلہ کر لیتے ہیں- کیونکہ قصوں میں جس قدر کوئی چاہے جھوٹ اور مبالغہ آمیزی سے کام لے لے- اگر رسول کریم ﷺ کے ذریعہ سے کسی شفاء کا ذکر کیا جائے تو اس کے مقابلہ میں ایک مسیحی دس قصے سنا دے گا اور اگر اس پر استعجاب کا اظہار کیا جائے تو جھٹ کہہ دے گا کہ اگر تمہاری روایت قابل تسلیم ہے تو میری کیوں نہیں؟ لیکن اگر اس سے یہ کہا جائے کہ رسول کریم ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے اور یہ زندہ معجزہ ہے- اس کی بنیاد روایتوں پر نہیں بلکہ حقیقت پر ہے- تو اس کے جواب میں سوائے خاموشی کے اور ان کے پاس کچھ نہیں رہتا- وہ اپنی کتابوں کو پیش نہیں کر سکتے- کیونکہ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی کتب محرف و مبدل ہیں اور اگر بعض ضدی اسے تسلیم نہیں کرتے تو کم سے کم تاریخی ثبوت اس قدر زبردست موجود ہیں کہ ان انکار نہیں کیا جا سکتا- وید کے نسخوں میں اس قدر اختلاف ہے کہ مختلف نسخے مل کر کئی نئے وید بن جاتے ہیں- آخر کانٹ چھانٹ کر ایک نسخہ تیار کیا گیا ہے- توریت کا یہ حال ہے کہ اس میں یہاں تک لکھا موجود ہے کہ پھر موسیٰؑ مر گیا اور آج تک اس جیسا کوئی نبی پیدا نہیں ہوا- حالانکہ اس کتاب کی نسبت کہا جاتا ہے کہ خود موسیٰؑ پر نازل ہوئی تھی- دوسری کتب بائبل کی ایسی ہیں کہ اختلافات کی وجہ سے ایک حصہ کی دوسرے حصہ سے شکل نہیں پہچانی جاتی- انجیل میں خود مسیحی آئے دن تغیر و تبدل کرتے رہتے ہیں- اور کبھی کسی آیت کو صحیح قرار دے کر اس میں داخل کر لیتے ہیں- دوسرے وقت میں اسے ردی قرار دے کر پھینک دیتے ہیں- اور اب تو بعض بابوں تک کی صفائی ہونے لگی ہے- اور کہا یہ جاتا ہے کہ یہ الحاقی باب ہیں- مگر سوال تو یہ ہے کہ اگر