انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 123

۱۲۳ یہ ایک طبعی بات ہے کہ انسان بعض اوقات ایک بات کا انکار کردیتا ہے لیکن جب اس پر صداقت کھلتی ہے تو اسے مان لیتا ہے۔ایسا ہر مذہب میں ہوتا ہے۔کئی لوگ ہندو ہوجاتے ہیں۔اب کیا انہیں کہا جاتا ہے کہ اتنے سال تو تم ہندو مذہب کا ذکر سنتے رہے اور ہندو نہ ہوئے؟ اب جو ہندو ہوئے ہو تو کسی لالچ کی وجہ سے ہوئے ہو؟ دراصل یہ بہت بودی دلیل ہے اور سوائے اسکے جو خود لالچی ہو اور کوئی پیش نہیں کر سکتا۔یوں تو دنیا میں بڑی اچھی اچھی کتابیں لکھی جاتی ہیں اور ان کی قبولیت بھی ہوتی ہے۔مگر دیکھنا یہ چاہیے کہ کیا کوئی ایسی کتاب لکھی گئی ہے جس کے لکھنے والے نے پہلے ہی یہ اعلان کردیا ہو کہ یہ سب سے افضل اور اعلیٰ ہوگی اور اس کی قبولیت لوگوں میں پھیل جائے گی۔یورپین لوگ کہتے ہیں شیکسپئیر جیسا کلام کوئی نہیں لکھ سکتا۔گو خدا کی قدرت ہے جب سے قرآن پر یورپین اعتراض کرنے لگے ہیں ایسی سوسائیٹاں بھی بن گئی ہیں جو شیکسپئیر کی تحریروں پر اعتراض کرتی ہیں۔لیکن اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ اچھا لکھنے والاتھا تو دیکھنا یہ چاہیے کہ کیا لکھتے وقت اس نے کہا تھا کہ اس کاکلام تمام کلاموں سے افضل رہے گا۔اس نے یقینا ایسا نہیں کہا۔مگر قرآن نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس کتاب کا مقابلہ کرنے سے دنیا عاجز رہے گی۔میں نے بینٹ کی ایک کتاب پڑھی ہے۔جس میں اس نے لکھا ہے کہ جب میں نے یہ کتاب لکھی تو سمجھا کہ بہت مقبول ہوگی مگر چھاپنے والوں نے اس کی اشاعت میں لَیْتَ وَ لَعَلَّ کیا اور پبلک نے بھی قدر نہ کی۔پس کوئی لکھنے والا نہیں جانتا کہ اس کی کتاب مقبول ہوگی یا نہیں۔مگر قرآن نے پہلے سے کہہ دیا تھا کہ یہ کتاب تمام کتب سے افضل ہے اور ہمیشہ افضل رہے گی۔پھر عرب وہ ملک تھا جس کا تمام کمال زبان دانی پرتھا۔اس ملک میں قرآن آیا اور ان لوگوں کی زبان میں آیا اور پھر اس نے ایسا تغیر پیدا کردیا کہ عربوں کا طرز کلام ہی بدل ڈالا اور انہوں نے قرآن کی طرز اختیار کر لی۔ان کی طرز تحریر بدل گئی۔پرانا سٹائل جاتا رہا اور قرآن کریم کے سٹائل پر ہی سب چلنے لگے۔بعض لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ قرآن کریم کو ماننے والوں نے ایسا کرنا ہی تھا۔میں کہتا ہوں بائیبل، انجیل اور ویدوں کے ماننے والوں نے کیونکہ ایسانہ کیا۔وہ بھی تو ان کتابوں کو خدا کی طرف سے مانتے تھے۔