انوارالعلوم (جلد 11) — Page 124
۱۲۴ قرآن کریم میں غیر زبانوں کے الفاظ یہ اعتراض کہ قرآن میں غیر زبانوں کے الفاظ آگئے ہیں یہ بھی درست نہیں۔کوئی زبان خواہ وہ نئی ہو یا پرانی غیر زبانوں کے الفاظ سے پاک نہیں ہو سکتی۔اعتراض تب ہوتا جب عربی زبان میں وہ الفاظ جاری نہ ہوتے اور عرب کہتے کہ ہم ان الفاظ کو سمجھ نہیں سکتے۔جب عرب قرآن کے الفاظ کو سمجھ جاتے تھے اور مکہ والے سمجھ لیتے تھے عرب میں وہ الفاظ جاری تھے اور وہ الفاظ عربی زبان کا ایک حصہ ہوچکے تھے توخواہ وہ غیر زبان کے ہی ہوں کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔بلکہ میں توکہتا ہوں اگر قرآن نے ہی وہ الفاظ عربی میں داخل کئے ہوں تب بھی یہ قرآن کی بہت بڑی طاقت کی علامت ہے کہ وہ الفاظ عربوں میں رائج ہوگئے۔کیونکہ جو قادر الکلام نہ ہو اس کی بات چل نہیں سکتی۔اسی لیے کہتے ہیں کہ اگر کوئی قادر الکلام اپنے کلام میں غلطی بھی کرے تو اسے ایجاد کہیں گے غلطی نہیں کہیں گے۔کیونکہ وہ زبان پر عبور رکھتا ہے۔پس اگر قرآن میں نئے الفاظ آئے اور وہ عربی زبان کا جزو بن گئے تو یہ قرآن کا اور زیادہ معجزہ ہے۔مگریہ درست نہیں کہ غیر زبانوں کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔دراصل یہ دھوکا اس وجہ سے لگا ہے کہ عربی اور عبرانی زبان کے بعض الفاظ آپس میں ملتے جلتے ہیں۔بلکہ بعض محاورات بھی آپس میں مل گئے ہیں۔اس سے یہ غلط طو ر پر سمجھ لیا گیا کہ قرآن میں غیر زبانوں کے الفاظ آگئے ہیں۔مثلاً فُرْقَانٌ ایک لفظ ہے۔اس کے تمام مشتقات عربی میں موجود ہیں۔اس کے متعلق یہ کہنا کہ قرآن نے یہ لفظ باہر سے لیا ہے غلط ہے۔اسی طرح رَحْمٰنٌ کے متعلق اعتراض کرتے ہیں حالانکہ یہ بھی عربی لفظ ہے۔لفظ رحمٰن کی حقیقت اصل بات یہ ہے کہ محققین یورپ کو یہ دھوکا قرآن کریم کی اس آیت سے لگا ہے کہ وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ۔۲۵ یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدائے رحمن کے سامنے سجدہ میں گرجاؤ تو وہ کہتے ہیں ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہوتاہے۔معترضین کہتے ہیں۔یہ آیت اس بات کی سند ہے کہ غیر زبان کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔کیونکہ عرب کے لوگ کہتے ہیں ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہوتا ہے۔اگر یہ غیر زبان کا لفظ نہ ہوتا تو وہ کیوں ایسا کہتے حالانکہ معترضین اس آیت کے معنے ہی نہیں سمجھے۔کفار کا اعتراض لفظ رحمن پر نہیں تھا بلکہ اس اصطلاح پر تھا جو قرآن نے رحمن کے لفظ کے ذریعہ پیش کی تھی۔قرآن نے یہ نئی اصطلاح پیش کی تھی