انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 597 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 597

۵۹۷ فضائل القرآن(نمبر ۳) سے تین چیزیں مجھے بہت ہی پسند ہیں۔اَلنِّسَاءُ عورتیں اَلطِّیْبُ خوشبو وَ جُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک تو نماز میں رکھی گئی ہے۔یہ حدیث بتاتی ہے کہ مرد و عورت کے جنسی تعلقات بھی تسکین اور ٹھنڈک کا موجب ہوتے ہیں۔اور خوشبو سے بھی قلب کو سکون محسوس ہوتا ہے اور نماز میں اﷲ تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری اور عاجزانہ دعائیں جو لذت پیدا کرتی ہیں۔وہ بھی انسان کے لئے سکون کا موجب ہوتی ہیں۔مرد و عورت ایک دوسرے کے لئے سکون کا موجب ہیں یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ یہاں تو صرف یہ ذکر ہے کہ مرد کے لئے عورت سکون کا باعث ہے یہ ذکر نہیں کہ عورت کے لئے بھی مرد سکون کا باعث ہے۔یہ مفہوم جو مرد و عورت کے تعلقات کا بتایا گیا ہے تب درست ہوتا جب دونوں ایک دوسرے کے لئے سکون کا موجب ہوں۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ھنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھنَّ ۵۹؂ یعنی عورتیں تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔پس موجب سکون اور آرام ہونے میں دونوں برابر ہیں۔عورت مرد کے لئے سکون کا باعث ہے اور مرد عورت کے لئے۔مردو عورت دونوں کو ایک دوسرے کا لباس کہہ کر اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کی حفاظت کرنی چاہئے۔اگر کوئی نہا دھو کر نکلے لیکن میلے کچلے کپڑے پہن لے تو کیا وہ صاف کہلائے گا۔کوئی شخص خواہ کس قدر صاف ستھرا ہو لیکن اس کا لباس گندا ہو تو وہ گندا ہی کہلاتا ہے۔پس ھنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھنَّ میں مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا نیکی بدی میں شریک قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کا محافظ ہونا چاہئے۔اس طرح بھی لِتَسْکُنُوْٓااِلَیْھَا کا مفہوم پورا ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے لئے بطور رفیقِ سفر کے کام کرتے ہیں۔روحانی طاقتوں کی جسمانی طاقتوں سے وابستگی حقیقت یہ ہے کہ بہت لوگوں نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ روحانی طاقتیں جسمانی طاقتوں سے اس دنیا میں وابستہ ہیں۔اور روح اسی جسم کے ذریعہ سے کام کرتی ہے۔یہ بات عام لوگوں کی نظروں سے غائب ہے۔نادان سائنس والے جسم کی حرکات دیکھ کر کہتے ہیں کہ روح کوئی چیز نہیں۔اور روحانیات سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کرنے والے علماء جو قرآن