انوارالعلوم (جلد 11) — Page 598
۵۹۸ فضائل القرآن(نمبر ۳) نہیں جانتے وہ کہتے ہیں کہ روح جسم سے علیحدہ چیز ہوتی ہے۔حالانکہ روح اور جسم ایک دوسرے سے بالکل پیوست ہیں۔جہاں اﷲ تعالیٰ نے روح کو علوم اور عرفان کے خزانے دئیے ہیں وہاں ان خزانوں کے دریافت کی تڑپ اور ان کے استعمال کو جسم کی کوششوں کے ساتھ وابستہ کردیا ہے۔جب جسم ان کی تلاش اور تجسس کرتا ہے تو وہ نکلتے آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کوئی پاگل خدا رسیدہ نہیں ہوسکتا ورنہ اگر روح جسم سے الگ ہوتی اور اس کا جسم سے کوئی تعلق نہ ہوتا تو چاہئے تھا کہ پاگل کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا۔کیونکہ پاگل کا دماغ خراب ہوتا ہے اور دماغ جسم سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ روح سے۔مگر ایسا نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ پاگلوں کو رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے مرفوع القلم قراردیا ہے اور فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو دوبارہ عمل کا موقع دے گا۔اگر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا صرف روح کا کام تھا جسم کا اس میں کوئی دخل نہ تھا تو وہ بَلٰی تو کہہ ہی چکی تھی۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جسم روح سے بالکل پیوستہ ہے۔جسم میں خدا تعالیٰ نے ایسی طاقتیں رکھی ہیں جو روحانیت کو بڑھانے والی ہیں۔رجولیت یا نسائیت سے متعلق قوتوں کا روح سے تعلق انہیں قوتوں میں سے جوانسان کو ابدیت کے حصول کے لئے دی گئی ہیں ایک اس کی ان غدودوں کا فعل ہے جو رجولیت یا نسائیت سے متعلق ہیں۔یہ غدود جسم کے ہی حصے نہیں بلکہ روح سے بھی ان کا تعلق ہے ورنہ مرد کو خوجہ بننے سے روکا نہ جاتا۔پھر یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ انبیاء کے بھی بیوی بچے ہوتے ہیں کیونکہ یہ اعضاء روحانیت کے لئے ضروری ہیں۔بلکہ ان سے روحانیت مکمل ہوتی ہے۔رجولیت یا نسائیت کی اصل غرض درحقیقت بقا کی حِس پیدا کرنے کی خواہش ہے۔اس خواہش کے ماتحت رجولیت یا نسائیت کے غدود بقا کی دوسری صورت کا کام دیتے ہیں۔یعنی نسل کشی۔گویا نسلِ انسانی کے پیدا کرنے کا ذریعہ ان غدودوں کے نشوونما کا ایک ظہور ہے۔اور وہی طاقت جو روح کی بقا کا ذریعہ ہے اس کو اﷲ تعالیٰ نے دنیا کی بقا کا ذریعہ بھی بنادیا اور یہ بقائے اولاد کے ذریعہ ہوتا ہے۔روح کی ترقی سے بقاء ابدی حاصل ہوتا ہے اور اولاد کے ذریعہ جسمانی بقاء ہوتا ہے۔اس لئے بقاء پیدا کرنے والی زائد طاقت کو اس کے لئے استعمال کر لیا گیا۔اگر کوئی کہے کہ پھر حیوانات میں اس طاقت کے رکھنے کا کیا فائدہ ہے تو اس کے لئے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کی پیدائش مختلف دوروں کے بعد ہوئی ہے۔پہلے چھوٹا جانور بنا۔پھر بڑا۔