انوارالعلوم (جلد 11) — Page 596
۵۹۶ فضائل القرآن(نمبر ۳) خدا کہتا ہے کہ کیا میں تلاش کے قابل نہیں ہوں۔تب وہ پکار اٹھتی ہے کہ بَلٰی یقینا آپ ہی اصل مقصود ہیں۔اس طرح مرد اور عورت ایک دوسرے کے متعلق تلاش اور تجسس کا جذبہ رکھنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی محبت حاصل کرلیتے اور اسے پالیتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنی محبت کا مادہ فطرت انسانی میں مخفی کیوں رکھا اب سوال ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ظاہراً کیوں نہ مرد و عورت میں اپنی محبت پیدا کردی اور اس طرح مخفی کیوں رکھا اس کا جواب یہ ہے کہ ظاہراً محبت ہوتی تو حصولِ اتّصال موجب ترقیات نہ ہوتا اور نہ اس کا ثواب ملتا۔ثواب کے لئے اخفاء کا پہلو ضروری ہوتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے مرد کے پیچھے عورت کے لئے اور عورت کے پیچھے مرد کے لئے اپنی محبت کو چھپادیا تاکہ جو لوگ کوشش کر کے اسے حاصل کریں وہ ثواب کے مستحق ہوں۔مرد میں عورت کی اور عورت میں مرد کی جو خواہش پیدا کی وہ مبہم خواہش ہے اصل خواہش خدا ہی کی ہے۔اس لئے اس نے انسان میں یہ مادہ رکھا کہ وہ خواہش کرے کہ میں مکمل بنوں۔اور وہ یہ سمجھے کہ مجھے تکمیل کے لئے کسی اور چیز کی ضرورت ہے لیکن اگر انسان میں صرف اضطراب اور تجسس کی خواہش ہی رکھی جاتی تو اضطراب مایوسی بھی پیدا کردیتا ہے۔اس لئے ضروری تھا کہ جہاں انسان کے قلب میں مکمل ہونے کے متعلق اضطراب ہو وہاں اس اضطراب کے نکلنے کا کوئی رستہ بھی ہو۔جیسے انجن سے زائد سٹیم نکلنے کا رستہ ہوتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے انسان میں اضطراب پیدا کیا اور ساتھ ہی عورت کے لئے مرد اور مرد کے لئے عورت کو سیفٹی والو بنایا اور اس طرح وہ محبت جو خدا تعالیٰ کے لئے پیدا کرنی تھی اس کے زوائد کو استعمال کرنے کا موقع دے دیا گیا۔اگر اس کے لئے کوئی سیفٹی والو نہ ہوتا تو یہ محبت بہتوں کو جنون میں مبتلا کردیتی۔دنیا میں کوئی عقلمند کسی چیز کو ضائع ہونے نہیں دیتا پھر کس طرح ممکن تھا کی خدا تعالیٰ کسی چیز کو ضائع ہونے دے۔پس اس نے اس کا علاج یہ کیا کہ انسانیت کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اسے دو شکلوں میں ظاہر کیا۔جس سے اس جوش کا زائد اور بے ضرورت حصہ دوسری طرف نکل جاتا ہے اور اس طرح انسان خواہ مرد ہو یا عورت سکون محسوس کرتا ہے۔اسی کی طرف رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے اس حدیث میں اشارہ فرمایا ہے کہ حُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا اَلنِّسَاءُ وَ الطِّیْبُ وَ جُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ ۵۸ ایک روایت میں مِنَ الدُّنْیَا کی بجائے مِنْ دُنْیَاکُمْ کے الفاظ بھی آتے ہیں۔یعنی دنیا میں